صحیح مسلم (جلد چہار دہم) — Page 7
مسلم جلد چهاردهم 7 كتاب القدر وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ ہمارے پاس تشریف لائے اور بیٹھ گئے اور ہم آپ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَن مَنْصُورٍ عَن سَعْدِ بْنِ کے گرد بیٹھ گئے۔آپ کے پاس ایک چھڑی تھی۔پھر عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَلِيِّ قَالَ كُنَّا آپ نے سرجھکایا اور اپنی چھڑی سے زمین کرید نے فِي جَنَازَةٍ فِي بَقِيعِ الْغَرْقَد فَأَتَانَا رَسُولُ الله لگے پھر فرمایا: تم میں سے کوئی جان بھی نہیں مگر اللہ نے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَعَدَ وَقَعَدْنَا حَوْلَهُ جنت اور دوزخ میں اس کی جگہ لکھ چھوڑی ہے بلکہ یہ وَمَعَهُ مِحْصَرَةٌ فَنَكَّسَ فَجَعَلَ يَنكُتُ بھی لکھ دیا گیا ہے کہ وہ بد بخت ہے یا نیک بخت۔بِمِخصَرَتِهِ ثُمَّ قَالَ مَا مِنكُمْ مِنْ أَحَدٍ مَا مِن نفْس راوی کہتے ہیں اس پر ایک شخص نے عرض کیا مَنْفُوسَةٍ إِلَّا وَقَدْ كَتَبَ اللهُ مَكَانَهَا مِنَ الْجَنَّةَ يا رسول اللہ ! کیا ہم اپنے لکھے ہوئے (اپنی تقدیر ) پر وَالنَّارِ وَإِلَّا وَقَدْ كُتبَتْ شَفَيَّةً أَوْ سَعَيدَةً قَالَ ہی نہ بیٹھ رہیں اور عمل چھوڑ دیں؟ اس پر حضور نے فَقَالَ رَجَلٌ يَا رَسُولَ اللَّه أَفَلَا تَمْكُثُ عَلَى فرمایا: جو سعادت مندوں میں سے ہوگا وہ سعادت مندوں والے کام کرے گا اور جو بدبختوں میں سے كتَابَنَا وَنَدَعُ الْعَمَلَ فَقَالَ مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ ہوگا وہ بدبختوں والے کام کرے گا۔آپ نے فرمایا: السَّعَادَة فَسَيَصِيرُ إِلَى عَمَل أَهْلَ السَّعَادَة عمل کرو، ہر ایک کے لئے میسر کیا گیا ہے۔جہانتک أَهْل الشَّقَاوَةِ فَقَالَ اعْمَلُوا فَكُلِّ مُيَسَّرٌ أَمَّا وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الشَّقَاوَةِ فَسَيَصِيرُ إِلَى عَمَلِ سعادت مندوں کا تعلق ہے ان کے لئے سعادت مندوں والے کام آسان کئے گئے ہیں پھر آپ نے أَهْلُ السَّعَادَةِ فَيُيَسَّرُونَ لَعَمَل أَهْلِ السَّعَادَةِ یہ آیت پڑھی فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى وَصَدَّقَ وَأَمَّا أَهْلُ الشَّقَاوَةِ فَيُيَسَّرُونَ لِعَمَلِ أَهْلِ بِالْحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ السَّقَاوَةِ ثُمَّ قَرَأَ فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى وَصَدَّقَ وَاسْتَغْنَى وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ بالْحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ لِلْعُسْرَى پس وہ جس نے ( راحق میں ) دیا اور وَاسْتَغْنَى وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ تقویٰ اختیار کیا اور بہترین نیکی کی تصدیق کی تو ہم للْعُسْرَى حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَ هَنَّا دُ بْنُ اسے ضرور کشادگی عطا کریں گے اور جہاں تک اس کا السَّرِيِّ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ مَنْصُورِ تعلق ہے جس نے بخل کیا اور بے پروائی کی اور بِهَذَا الْإِسْنَادِ فِي مَعْنَاهُ وَقَالَ فَأَخَذَعُودًا وَلَمْ بهترین نیکی کی تکذیب کی تو ہم اسے ضرور تنگی میں يَقُلْ مِحْصَرَةً وَقَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ فِي حَدِيثِهِ ڈال دیں گے۔الليل 6 تا 11