صحیح مسلم (جلد چہار دہم) — Page 152
صحیح مسلم جلد چهاردهم 152 كتاب التوبة إِلَّا فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ غَيْرَ أَنِّي قَدْ تَخَلَّفْتُ فِي غَزْوَةِ بَدْرٍ وَلَمْ يُعَاتِبْ أَحَدًا تَخَلَّفَ عَنْهُ إِنَّمَا يُحَدِّثُ حَدِيثَهُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ رَسُول الله رسول اللہ ﷺ سے پیچھے نہیں رہا۔ہاں غزوہ بدر میں صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَة تَبُوكَ قَالَ بھی میں پیچھے رہ گیا تھا۔لیکن اس موقعہ پر آپ نے كَعْبُ بْنُ مَالِكَ لَمْ أَتَخَلَّفَ عَنْ رَسُول الله کی پیچھے رہنے والے پر اظہار ناراضگی نہیں فرمایا ا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ غَرَاهَا قَطُّ تھا۔اس وقت رسول اللہ ﷺ اور مسلمان صرف قریش کے ایک قافلہ کے ارادہ سے نکلے تھے یہانتک کہ اللہ نے انہیں اور ان کے دشمنوں کو پہلے سے طے کئے ہوئے وقت کے بغیر اکٹھا کر دیا اور میں عقبہ کی خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رات بھی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا جب ہم نے وَالْمُسْلِمُونَ يُرِيدُونَ عِيرَ قُرَيْشٍ حَتَّى اسلام پر پختہ عہد کیا تھا اور میں پسند نہیں کرتا کہ اس جَمَعَ اللَّهُ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ عَدُوِّهِمْ عَلَى غَيْرِ ( بیعت عقبہ) کی بجائے بدر میں حاضر ہوتا اگر چہ مِيعَادٍ وَلَقَدْ شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى (اس بیعت عقبہ ) کی نسبت جنگ بدر کا لوگوں میں اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْعَقَبَة حينَ تَوَاثَقْنا زیادہ چرچا ہے۔میرا واقعہ یوں ہے جب میں غزوہ عَلَى الْإِسْلَامِ وَمَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِهَا مَشْهَدَ تبوک میں رسول اللہ ﷺ سے پیچھے رہ گیا تھا۔میں بَدْرٍ وَإِنْ كَانَتْ بَدْرٌ أَذْكَرَ فِي النَّاسِ مِنْهَا کبھی اپنی زندگی میں اتنا مضبوط اور خوشحال نہیں تھا وَكَانَ مِنْ خَبَرِي حِينَ تَخَلَّفْتُ عَنْ رَسُولِ جتنا کہ اس وقت تھا جب میں اس غزوہ میں آپ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَة تَبُوكَ سے پیچھے رہ گیا تھا اور اللہ کی قسم اس سے قبل کبھی میں نے سواری کی دو اونٹنیاں اکٹھی نہیں کی تھیں لیکن أَنِّي لَمْ أَكُنْ قَطُّ أَقْوَى وَلَا أَيْسَرَ مِنِّي حِينَ اس غزوہ کے وقت میرے پاس دو اونٹنیاں تھیں۔تَخَلَّفْتُ عَنْهُ فِي تِلْكَ الْغَزْوَةِ وَاللَّهِ مَا رسول اللہ ماہ سخت گرمی میں اس غزوہ کے لئے جَمَعْتُ قَبْلَهَا رَاحِلَتَيْنِ قَطُّ حَتَّى جَمَعْتُهُمَا روانہ ہوئے اور آپ کو ایک لمبے سفر اور صحراء کا سامنا فِي تِلْكَ الْغَزْوَةِ فَغَرَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی تھا اور ایک بڑی تعداد میں دشمن سے مقابلہ تھا اور آپ اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَرِّ شَدِيدٍ وَاسْتَقْبَلَ نے مسلمانوں پر یہ صورت حال اچھی طرح واضح کر سَفَرًا بَعِيدًا وَمَفَازًا وَاسْتَقْبَلَ عَدُوًّا كَثِيرًا دی تھی تا کہ وہ اپنے غزوہ کے لئے خوب اچھی طرح