صحیح مسلم (جلد چہار دہم) — Page 142
صحیح مسلم جلد چهاردهم 142 كتاب التوبة د ☆ يَزِيدُ حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ عَبْدِ سے کیا۔راوی کہتے ہیں کہ یہ آیت اتری۔اقم الله بن مَسْعُودٍ أَنَّ رَجُلًا أَصَابَ مِنِ امْرَأَةٍ قُبْلَةُ الصَّلوةَ طَرَفَي النَّهَارِ وَزُلَفًا مِّنَ اللَّيْلِ إِنَّ فَأَتَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ۔۔۔اور دن کے دونوں لَهُ قَالَ فَنَزَلَتْ أَقِمِ الصَّلوةَ طَرَفَي النَّهَارِ وَزُلَفًا کناروں پر نماز قائم کر اور رات کے کچھ ٹکڑوں میں منَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ بھی۔یقینا نیکیاں بدیوں کو دور کر دیتی ہیں۔یہ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ قَالَ فَقَالَ الرَّجُلُ أَلِيَ نصیحت ذکر کرنے والوں کے لئے ایک بہت بڑی هَذهِ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ لِمَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ أُمَّتِي نصیحت ہے ا {40} حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى حَدَّثَنَا راوی کہتے ہیں اس پر اس شخص نے عرض کیا الْمُعْتَمِرُ عَنْ أَبِيهِ حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ عَنِ ابْنِ یارسول اللہ ! کیا یہ ( آیت) میرے لئے ہے؟ آپ نے مَسْعُودٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ فرمایا میری امت میں سے ہر اس شخص کے لئے جو اس وَسَلَّمَ فَذَكَرَ أَنَّهُ أَصَابَ مِنِ امْرَأَةٍ إِمَّا قُبْلَةً أَوْ مکمل کرے۔حضرت ابن مسعودؓ سے روایت ہے کہ ایک مَسَّابِيَةٍ أَوْ شَيْئًا كَأَنَّهُ يَسْأَلَ عَنْ كَفَّارَتِهَا قَالَ شخص نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔اور اس نے فَأَنزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيث بیان کیا کہ اس نے کسی عورت کا بوسہ لے لیا یا( کہا ) يَزِيدَ {41} حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ہاتھ سے چھولیا یا کچھ اور کہا) گویا وہ اس کا کفارہ پو چھ جَرِيرٌ عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ رہا ہے۔راوی کہتے ہیں پھر اللہ عزوجل نے یہ آیت أَصَابَ رَجُلٌ مِنِ امْرَأَةٍ شَيْئًا دُونَ الْفَاحِشَة نازل فرمائی۔باقی روایت پہلی روایت کی طرح ہے۔فَأَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَعَظْمَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَتَى أَبَا ایک اور روایت میں ہے کہ کوئی آدمی ایک عورت سے بَكْرٍ فَعَظَّمَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ بدکاری کے سوا کچھ کر بیٹھا۔وہ حضرت عمر بن خطاب کے وَسَلَّمَ فَذَكَرَ بمثل حديث يَزيدَ پاس گیا۔انہوں نے اسے بہت سنگین قرار دیا۔پھر وہ حضرت ابو بکر کے پاس گیا انہوں نے بھی اسے بہت وَالْمُعْتَمر [7001,7002,7003] سنگین قرار دیا۔پھر وہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر سورة هود: 115 ہوا۔باقی روایت سابقہ روایت کی طرح ہے۔