صحیح مسلم (جلد سیز دہم)

Page 34 of 376

صحیح مسلم (جلد سیز دہم) — Page 34

صحیح مسلم جلد سیزدهم 34 کتاب فضائل الصحابة : 4411{36} حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبِ 4411 يزيد بن حیان کہتے ہیں کہ میں اور حصین بن وَشَجَاعُ بْنُ مَحْلَدٍ جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ سبرہ اور عمر بن مسلم حضرت زید بن ارقم کے پاس گئے قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جب ہم ان کے پاس بیٹھے تو حصین نے ان سے کہا حَدَّثَنِي أَبُو حَيَّانَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ حَيَّانَ کہ اے زید ! آپ نے بہت خیر پائی۔آپ نے قَالَ الطَلَقْتُ أَنَا وَحُصَيْنُ بْنُ سَبْرَةَ وَعُمَرُ رسول الله عے کو دیکھا، آپ کی باتیں سنیں اور آپ بْنُ مُسْلِمٍ إِلَى زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ فَلَمَّا جَلَسْنَا إِلَيْهِ کی معیت میں غزوات کئے اور آپ کے پیچھے قَالَ لَهُ حُصَيْنٌ لَقَدْ لَقِيتَ يَا زَيْدُ خَيْرًا كَثِيرًا نمازیں پڑھیں۔زیڈ! آپ نے بہت خیر پائی ہے۔رَأَيْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اے زید! جو رسول اللہ ﷺ سے آپ نے سنا ہے وَسَمِعْتَ حَدِيثَهُ وَغَزَوْتَ مَعَهُ وَصَلَّيْتَ ہمیں بتائیں۔انہوں نے کہا اے میرے بھتیجے! اللہ خَلْفَهُ لَقَدْ لَقِيتَ يَا زَيْدُ خَيْرًا كَثِيرًا حَدَّثْنَا يَا کی قسم میری عمر زیادہ ہوگئی ہے اور مجھ پر ایک عرصہ زَيْدُ مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ گذر گیا ہے اور میں بعض باتیں بھول چکا ہوں جو عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا ابْنَ أَخِي وَالله لَقَدْ رسول اللہ اللہ سے مجھے یاد تھیں۔پس جو بات میں ﷺ كَبِرَتْ سِنِّي وَقَدُمَ عَهْدِي وَنَسيتُ بَعْضَ تمہیں بتاؤں اسے قبول کر لو اور جو نہ بتاؤں اس پر الَّذِي كُنْتُ أَعِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ مجھے مجبور نہ کرو۔وہ کہنے لگے ایک روز رسول اللہ ہے صل الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا حَدَّثْتُكُمْ فَاقْبَلُوا وَمَا لَا فَلَا مکہ اور مدینہ کے مابین ایک چشمہ کے پاس جسے تم کہا تُكَلِّفُونِيهِ ثُمَّ قَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ جاتا تھا ہمارے درمیان خطاب کرنے کے لئے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فِينَا خَطِيبًا بِمَاءِ يُدْعَى کھڑے ہوئے۔آپ نے اللہ کی حمد وثنا کی اور وعظ و حُمَّا بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَة فَحَمدَ اللَّهَ وَأَثْنَى نصیحت فرمائی پھر فرمایا اما بعد ! سنو اے لوگو! میں تو عَلَيْهِ وَوَعَظَ وَذَكَّرَ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ أَلَا أَيُّهَا محض ایک انسان ہوں قریب ہے کہ میرے رب کا النَّاسُ فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَ رَسُولُ پیغام لانے والا آئے اور میں اس کے بلاوے پر ہاں رَبِّي فَأُجِيبَ وَأَنَا تَارِكٌ فِيكُمْ ثَقَلَيْنِ أَولُهُمَا کہوں۔میں تم میں دو اہم چیزیں چھوڑے جارہا كِتَابُ اللهِ فِيهِ الْهُدَى وَالنُّورُ فَخُذُوا ہوں، ان میں سے پہلی اللہ کی کتاب ہے جس میں بِكِتَابِ اللهِ وَاسْتَمْسِكُوا بِهِ فَحَتْ عَلَى ہدایت اور نور ہے۔پس اللہ کی کتاب کو لو اور اس کو