صحیح مسلم (جلد سیز دہم) — Page 19
صحیح مسلم جلد سیزدهم 19 کتاب فضائل الصحابة فَسَأَلَهُ أَنْ يُعْطِيَهُ قَمِيصَهُ أَنْ يُكَفِّنَ فِيهِ أَبَاهُ چنانچہ آپ نے اسے (قمیص) عطا فرمائی پھر اس فَأَعْطَاهُ ثُمَّ سَأَلَهُ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ فَقَامَ رَسُولُ نے آپ سے درخواست کی آپ اس کی نماز جنازہ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ فَقَامَ پڑھا ئیں تو رسول اللہ ﷺ گئے تا کہ اس کی نماز عُمَرُ فَأَخَذَ بِثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ جنازہ پڑھائیں۔اس پر حضرت عمرؓ کھڑے ہوئے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُصَلِّي عَلَيْهِ اور رسول اللہ ﷺ کے کپڑے کو پکڑ لیا اور عرض کیا وَقَدْ نَهَاكَ اللهُ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ یا رسول اللہ ! کیا آپ اس کی نماز جنازہ پڑھنے لگے الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا خَيَّرَنيَ الله ہیں حالانکہ اللہ نے آپ کو اس پر نماز پڑھنے سے منع فَقَالَ اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِنْ کیا ہے۔اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ نے تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً وَسَأَزِيدُ عَلَى مُجھے اختیار دیا ہے اور فرمایا ہے کہ اِسْتَغْفِرُ لَهُمْ أَوْ لَا سَبْعِينَ قَالَ إِنَّهُ مُنَافِقٌ فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ تَسْتَغْفِرْ لَهُمُ۔۔۔تو ان کے لئے استغفار کریانہ کر ، الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ اگر تو ان کے لئے ستر مرتبہ بھی استغفار کرے گا ، 1 وَجَلَّ وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا میں ستر سے زیادہ دفعہ استغفار کر لوں گا۔انہوں وَلَا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ و حَدَّثَنَاهِ مُحَمَّدُ بْنُ حضرت عمر نے کہا کہ وہ منافق ہے مگر رسول اللہ علی الْمُثَنَّى وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ قَالَا حَدَّثَنَا نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔تب اللہ عز وجل نے يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بِهَذَا یہ آیت اُتارى وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ الْإِسْنَادِ فِي مَعْنَى حَدِيثِ أَبِي أَسَامَةَ وَزَادَ أَبَدًا۔۔” اور تو ان میں سے کسی مرنے والے کی کبھی قَالَ فَتَرَكَ الصَّلَاةَ عَلَيْهِمْ [6208,6207] ( جنازہ کی نماز نہ پڑھ اور کبھی اس کی قبر پر دعا کے لئے ) کھڑا نہ ہو 2 1 سورة التوبة : 80 2 سورة التوبة : 84 ایک اور روایت میں یہ اضافہ ہے کہ پھر آپ نے ان (منافقین ) کی نماز جنازہ) پڑھنا ترک فرما دی۔