صحیح مسلم (جلد سیز دہم)

Page 200 of 376

صحیح مسلم (جلد سیز دہم) — Page 200

صحیح مسلم جلد سیزدهم 200 کتاب فضائل الصحابة إِلَى أُمِّهِ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرِ فَأَبَتْ أَنْ تَأْتِيَهُ قبروں میں ڈال دیا گیا پھر اس نے ان کی والدہ فَأَعَادَ عَلَيْهَا الرَّسُولَ لَتَأْتِيَنِّي أَوْ لَأَبْعَثَنَّ حضرت اسماء بنت ابی بکر کو بلا بھیجا لیکن انہوں نے إِلَيْكَ مَنْ يَسْحَبُك بقُرُونكَ قَالَ فَأَبَتْ اس کے پاس جانے سے انکار کر دیا اس نے پھر ان وَقَالَتْ وَاللَّهِ لَا آتِيكَ حَتَّى تَبْعَثَ إِلَيَّ مَنْ کے پاس وہی ایلچی بھیجا کہ تمہیں ضرور خود میرے يَسْحَبُنِي بِقُرُونِي قَالَ فَقَالَ أَرُونِي سَبْتَی پاس آنا پڑے گا ورنہ میں ضرور تمہارے پاس کسی کو بھیجوں گا جو تمہیں تمہارے بالوں سے گھسیٹے گا۔راوی فَأَخَذَ نَعْلَيْهِ ثُمَّ الطَّلَقَ يَتَوَذَّفُ حَتَّى دَخَلَ کہتے ہیں انہوں نے انکار کیا اور کہا کہ اللہ کی قسم ! میں عَلَيْهَا فَقَالَ كَيْفَ رَأَيْتِي صَنَعْتُ بِعَدُوِّ اللَّهِ ہر گز تمہارے پاس نہیں آؤں گی یہانتک کہ تم میرے قَالَتْ رَأَيْتُكَ أَفْسَدْتَ عَلَيْهِ دُنْيَاهُ وَأَفْسَدَ پاس میرے بالوں سے گھسیٹنے والا نہ بھیجو۔راوی کہتے عَلَيْكَ آخِرَتَكَ بَلَغَنِي أَنَّكَ تَقُولُ لَهُ يَا ابْنَ ہیں پھر حجاج نے کہا کہ میری جوتیاں لاؤ پس اس نے ذَاتِ النِّطَاقَيْنِ أَنَا وَاللَّهِ ذَاتُ النِّطَاقَيْنِ أَمَّا اپنے جوتے پہنے اور اکڑتا ہوا تیز چلنے لگا یہانتک کہ أَحَدُهُمَا فَكُنْتُ أَرْفَعُ بِهِ طَعَامَ رَسُولِ اللَّهِ ان کے پاس پہنچا اور کہا کہ تم نے مجھے دیکھ لیا کہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَطَعَامَ أَبِي بَكْرِ مِنْ میں نے اللہ کے دشمن سے کیسا سلوک کیا حضرت اسماء الدَّوَابِّ وَأَمَّا الْآخَرُ فَنطَاقُ الْمَرْأَةِ الَّتِي لَا نے کہا کہ میں نے بھی تمہیں دیکھ لیا کہ تم نے اس کی دنیا بگاڑ دی اور اس نے تیری آخرت بگاڑ دی۔مجھے تَسْتَغْنِي عَنْهُ أَمَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا أَنَّ فِي ثَقِيف كَذَّابًا پتہ چلا ہے کہ تم اسے کہتے ہو اے ذات النطاقین ( دو کمر بندوالی) کے بیٹے ! خدا کی قسم میں ذات النطاقین يُرَاجِعْهَا [6496]۔وَمُبِيرًا فَأَمَّا الْكَذَّابُ فَرَأَيْنَاهُ وَأَمَّا الْمُبِيرُ فَلَا ) دو کمر بند والی) ہوں، ایک کمر بند میں تو میں إحَالُكَ إِلَّا إِيَّاهُ قَالَ فَقَامَ عَنْهَا وَلَمْ رسول الله لا الہ اور حضرت ابو بکر کا کھانا جانوروں رسول سے بچانے کے لئے اٹھاتی تھی اور دوسرا عورت کا کمر بند ہے جس سے وہ مستغنی نہیں ہو سکتی۔سنو رسول اللہ علیہ نے ہمیں بتایا تھا کہ ثقیف میں ایک جھوٹا اور ایک ہلاک کرنے والا شخص ہو گا پس جھوٹے کو تو ہم نے دیکھ لیا جہاں تک ہلاک کرنے والے کا