صحیح مسلم (جلد سیز دہم)

Page 105 of 376

صحیح مسلم (جلد سیز دہم) — Page 105

صحیح مسلم جلد سیزدهم 105 کتاب فضائل الصحابة أَهْدَى لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طرح ہے مگر اس میں یہ ذکر نہیں کہ آپ ریشم سے منع حُلْةٌ فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ وَكَانَ فرمایا کرتے تھے۔يَنْهَى عَنِ الْحَرِيرِ [6352,6351] 711251: بَاب مِنْ فَضَائِلِ أَبِي دُجَانَةَ سِمَاكِ بْنِ حَرَشَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ حضرت ابودجانه سماک بن خرشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کچھ فضائل کا بیان 4502{128} حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبي شَيْبَةَ :4502 حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ علی حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا نے اُحد کے دن تلوار پکڑی اور فرمایا کہ اسے مجھ سے ثابتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الله کون لے گا ؟ اُن سب نے اپنے ہاتھ بڑھاتے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ سَيْفًا يَوْمَ أَحد فَقَالَ مَنْ ہوئے کہا میں ہیں۔آپ نے فرمایا کون اس کو اس کا يَأْخُذُ مِنِّي هَذَا فَبَسَطُوا أَيْدِيَهُمْ كُلُّ إِلسَان حق ادا کرنے کی شرط پر ) لے گا۔وہ (حضرت انس ) مِنْهُمْ يَقُولُ أَنَا أَنَا قَالَ فَمَنْ يَأْخُذُهُ بحَقَّهُ کہتے ہیں اس پر لوگ رک گئے تو حضرت سماک بن قَالَ فَأَحْجَمَ الْقَوْمُ فَقَالَ سَمَاكُ بْنُ حَرَشَةَ خرشہ ابو دجانہ نے کہا کہ میں اس کو اس کا حق ادا أَبُو دُجَانَةَ أَنَا آخَذُهُ بِحَقِّهِ قَالَ فَأَخَذَهُ فَفَلَقَ کرنے کی شرط پر لیتا ہوں۔وہ (حضرت انسٹ) کہتے بِهِ هَامَ الْمُشْرِكِينَ [6353] ہیں انہوں نے تلوار لی اور مشرکوں کے سر پھاڑ دیئے۔721261 : بَاب مِنْ فَضَائِلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ وَالِدِ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا حضرت جایز کے والد حضرت عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ تعالی عنہما کے بعض فضائل کا بیان 1294503} حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ 4503 : حضرت جابر بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں الْقَوَارِيرِيُّ وَعَمْرُو النَّاقِدُ كِلَاهُمَا عَنْ کہ اُحد کے دن میرے والد پر کپڑا ڈال کر لایا گیا 4503 : اطراف : مسلم کتاب فضائل الصحابة باب من فضائل عبد الله بن عمرو بن حرام والد جابر 4504 =