صحیح مسلم (جلد دوازدہم) — Page 28
تيح مسلم جلد دوازدهم 28 كتاب الآداب صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الاسْتَعْذَانُ حضرت ابو موسیٰ نے عرض کیا کہ میں ثَلَاثٌ فَإِنْ أُذِنَ لَكَ وَإِلَّا فَارْجِعْ قَالَ لَتَأْتِيَنِّي نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عَلَى هَذَا بَيِّنَةِ وَإِلَّا فَعَلْتُ وَفَعَلْتُ فَذَهَبَ اجازت طلب کرنا تین دفعہ ہے۔اگر تمہیں اجازت أَبُو مُوسَى قَالَ عُمَرُ إِنْ وَجَدَ بَيِّنَةٌ تَجِدُوهُ دے دی جائے تو ٹھیک ورنہ واپس لوٹ جاؤ۔عِنْدَ الْمِنْبَرِ عَشِيَّةً وَإِنْ لَمْ يَجِدْ بَيِّنَةً فَلَمْ حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ تم اس بات پر ضرور کوئی ثبوت تَجدُوهُ فَلَمَّا أَنْ جَاءَ بِالْعَشِيِّ وَجَدُوهُ قَالَ لاؤ گے ورنہ میں سزا دوں گا۔چنانچہ حضرت ابو موسیٰ يَا أَبَا مُوسَى مَا تَقُولُ أَقَدْ وَجَدْتَ قَالَ نَعَمْ چلے گئے۔( حضرت ) عمرؓ نے فرمایا اگر اس نے کوئی أُبَيَّ بْنَ كَعْب قَالَ عَدْلٌ قَالَ يَا أَبَا الطُّفَيْلِ ثبوت پایا تو تم آج رات اسے منبر پر پاؤ گے مَا يَقُولُ هَذَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ الله صَلَّی لیکن اگر اس نے کوئی ثبوت نہ پایا تو تم اسے موجود نہ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَلِكَ يَا ابْنَ پاؤ گے۔جب وہ شام کو آئے تو لوگوں نے انہیں الْخَطَّابِ فَلَا تَكُونَنَّ عَذَابًا عَلَى أَصْحَاب ) حضرت ابو موسیٰ کو ) موجود پایا، حضرت عمرؓ نے رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فرمایا اے ابو موسیٰ " ! آپ کیا کہتے ہیں کیا آپ کو سُبْحَانَ اللَّهَ إِنَّمَا سَمِعْتُ شَيْئًا فَأَحْبَبْتُ أَنْ ( ثبوت مل گیا؟ انہوں نے کہا ہاں ، حضرت آئی أَتَثَبَّتَ وحَدَّثَنَاه عَبْدُ الله بْنُ عُمَرَ بْن بن کعب - حضرت عمرؓ نے فرمایا وہ تو سرا پا عدل ہے۔مُحَمَّد بْن أَبَانَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ عَنْ پھر کہا اے ابوطفیل ! یہ کیا کہہ رہے ہیں ؟ انہوں نے کہا طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ اے ابن خطاب ! میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فَقَالَ يَا أَبَا الْمُنْذر آلتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ فرماتے ہوئے سنا ہے۔پس آپ رسول اللہ رَسُول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ کے اصحاب کے لئے موجب تکلیف نہ بنیں۔نَعَمْ فَلَا تَكُنْ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ عَذَابًا عَلَى حضرت عمرؓ نے فرمایا سبحان اللہ میں نے ایک بات أَصْحَاب رَسُول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ سنی تو میں نے پسند کیا کہ میں اس کی تحقیق کروں۔وَسَلَّمَ وَلَمْ يَذْكُرْ مِنْ قَوْل عُمَرَ سُبْحَانَ ایک اور روایت میں (قَالَ يَا أَبَا الطُّفَيْلِ مَا يَقُولُ هَذَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ الله کی الله وَمَا بَعْدَهُ [5633,5634] بجائے ) فَقَالَ يَا أَبَا الْمُنْذِرِ انْتَ سَمِعْتَ هَذَا