صحیح مسلم (جلد دوازدہم) — Page 227
حیح مسلم جلد دوازدهم 227 كتاب الفضائل دُحَانًا فَأَسْرَعْتُ الْمَشْيَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ آگے چلا۔میں نے کہا اے ابوسیف ! رُک جاؤ ، اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا أَبَا رسول الله علیہ تشریف لا رہے ہیں۔وہ رک گیا۔سَيْف أَمْسَكَ جَاءَ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ پھر نبی ﷺ نے بچہ کو بلوایا اور اسے اپنے ساتھ چمٹایا عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمْسَكَ فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ پھر جو اللہ نے چاہا آپ نے فرمایا۔حضرت انس کہتے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بالصَّبِيِّ فَضَمَّهُ إِلَيْهِ وَقَالَ مَا ہیں میں نے دیکھا ہے کہ وہ (بچہ ) رسول اللہ شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ فَقَالَ أَنَسٌ لَقَدْ رَأَيْتُهُ کے سامنے آخری سانس لے رہا تھا اور رسول اللہ میلہ وَهُوَ يَكِيدُ بِنَفْسِهِ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔پھر آپ نے فرمایا آنکھ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَمَعَتْ عَيْنَا رَسُولِ آنسو بہاتی ہے اور دل غمگین ہوتا ہے مگر ہم اس کے سوا الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ تَدْمَعُ کچھ نہیں کہتے سوائے اس کے جس میں ہمارے رب الْعَيْنُ وَيَحْزَنُ الْقَلْبُ وَلَا تَقُولُ إِلَّا مَا کی رضا ہے۔خدا کی قسم اے ابراہیم ا یقینا ہم تیری يَرْضَى رَبُّنَا وَاللَّهِ يَا إِبْرَاهِيمُ إِنَّا بِكَ وجہ سے نمکین ہیں۔لَمَحْرُونُونَ [6025] 4266{63) حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ 4266: حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الله بن نُمَيْرِ وَاللَّفْظُ میں نے رسول اللہ علہ سے بڑھ کر بچوں پر شفقت لِزُهَيْرِ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عَلَيَّةَ کرنے والا کوئی نہیں دیکھا۔وہ کہتے ہیں کہ ابراہیم عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ عَنْ أَنَسِ بْنِ کے لئے مدینہ کے بالائی مضافات میں دودھ پلانے مَالك قَالَ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَرْحَمَ کا انتظام تھا اور حضور وہاں جایا کرتے تو ہم بھی آپ بِالْعِيَالِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کے ساتھ ہوتے۔آپ گھر میں داخل ہوتے تو وہاں وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ إِبْرَاهِيمُ مُسْتَرْضِعًا لَهُ في بہت دھواں ہوتا۔ابراہیم کا رضاعی باپ کو ہار تھا۔عَوَالِي الْمَدِينَةِ فَكَانَ يَنْطَلِقُ وَنَحْنُ مَعَهُ پس حضور اسے (ابراہیم کو ) لیتے اور اسے بوسہ دیتے فَيَدْخُلُ الْبَيْتَ وَإِنَّهُ لَيُدَّخَنُ وَكَانَ ظَفْرُهُ پھر واپس آ جاتے۔عمرو نے کہا کہ جب ابراہیم کی قَيْنَا فَيَأْخُذُهُ فَيُقَبِّلُهُ ثُمَّ يَرْجِعُ قَالَ عَمْرُو وفات ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ابراہیم فَلَمَّا تُوُفِّيَ إِبْرَاهِيمُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی میرا بیٹا ہے اور اس کی وفات شیر خوارگی میں ہوئی ہے