صحیح مسلم (جلد دوازدہم) — Page 183
حیح مسلم جلد دوازدهم 183 كتاب الفضائل صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ بِالزَّوْرَاءِ مدینہ میں ہے، بازار اور اس مسجد کے پاس جو وہاں قَالَ وَالزَّوْرَاء بِالْمَدِينَةِ عِنْدَ السُّوقِ ہے۔رسول اللہ ﷺ نے ایک پیالہ منگوایا جس میں وَالْمَسْجِدِ فِيمَا ثَمَّهُ دَعَا بِقَدَحٍ فِيهِ مَاءً کچھ پانی تھا اور آپ نے اپنا ہاتھ اس میں رکھا تو فَوَضَعَ كَفَّهُ فِيهِ فَجَعَلَ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصابعه (پانی) آپ کی انگلیوں کے درمیان سے پھوٹنے لگا فَتَوَضَّأَ جَمِيعُ أَصْحَابِهِ قَالَ قُلْتُ كَمْ كَانُوا آپ کے سب صحابہ نے وضوء کیا۔قتادہ کہتے ہیں میں يَا أَبَا حَمْزَةَ قَالَ كَانُوا زُهَاءَ الثَّلَاثِ نے عرض کیا اے ابوحمزہ! وہ کتنے تھے؟ انہوں نے بتایا مائة (7) و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا کہ تین سو کے قریب تھے۔مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ ایک اور روایت میں ہے کہ نبی ﷺ زوراء ( مقام ) عَنْ أَنَسٍ أَنْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ میں تھے کہ آپ کے پاس پانی کا برتن لایا گیا۔اس كَانَ بِالزَّوْرَاءِ فَأُتِيَ بِإِنَاءِ مَاءِ لَا يَعْمُرُ (پانی میں) آپ کی انگلیاں نہیں ڈوبتی تھیں یا اتنا تھا أصَابِعَهُ أَوْ قَدْرَ مَا يُوَارِي أَصَابِعَهُ ثُمَّ ذَكَرَ جو آپ کی انگلیوں کو چھپالے۔۔۔نَحْوَ حَدِيثِ هِشَامٍ [5943,5944] 4213{8} و حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ 4213 حضرت جابر سے روایت ہے کہ حضرت ام مالک حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ حَدَّثَنَا مَعْقِل عَنْ نبی ﷺ کی خدمت میں گھی تحفہ کے طور پر اپنے ایک أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ أُمَّ مَالك كَانَتْ چمڑے کے برتن میں بھیجا کرتی تھیں۔پھر جب ان تُهدي للنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي کے بیٹے ان کے پاس آکر سالن مانگتے اور ان کے عُكَةٍ لَهَا سَمْنَا فَيَأْتِيهَا بَنُوهَا فَيَسْأَلُونَ الْأَدَمَ پاس کچھ نہ ہوتا تو وہ اس ( برتن ) کا قصد کرتیں جس میں سے وہ نبی علیہ کو تحفہ بھجواتیں اور اس میں گھی موجود پاتیں۔اس وقت تک ان کے گھر کا سالن كانت تُهدي فيه للنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَلَيْسَ عِنْدَهُمْ شَيْءٌ فَتَعْمِدُ إِلَى الَّذِي موجود رہا جب تک کہ انہوں نے اسے نچوڑ نہ لیا۔پھر وَسَلَّمَ فَتَجِدُ فِيهِ سَمْنَا فَمَا زَالَ يُقِيمُ لَهَا جب أم مالک نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں أَدْمَ بَيْتِهَا حَتَّى عَصَرَتْهُ فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى تو آپ نے فرمایا تم نے اسے نچوڑ لیا؟ انہوں نے اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عَصَرْتِیهَا قَالَتْ نَعَمْ عرض کیا جی ہاں۔آپ نے فرمایا اگر تم اسے (اس کی قَالَ لَوْ تَرَكْتِيهَا مَا زَالَ قَائِمًا [5945] حالت پر چھوڑ دیتی تو وہ ہمیشہ رہتا۔