صحیح مسلم (جلد دوازدہم)

Page 148 of 359

صحیح مسلم (جلد دوازدہم) — Page 148

حیح مسلم جلد دوازدهم 148 كتاب الالفاظ من الأدب [13]3 : بَاب حُكْمِ إِطْلَاقِ لَفْظَةِ الْعَبْدِ وَالْأَمَةِ وَالْمَوْلَى وَالسَّيِّدِ عبد اور الامۃ اور مولی اور سید کے الفاظ کے استعمال کا بیان 4163{13} حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ :4163 حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی ہرگز یہ جَعْفَرٍ عَنِ الْعَلَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ عَبْدِى - أُمَتِى ( میرا عَبُد - میری آمَة ) نہ کہے رَسُولَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا کیونکہ تم سب اللہ کے عبد ہو اور ہر عورت اللہ کی يَقُولَنَّ أَحَدَكُمْ عَبْدِي وَأَمَتِي كُلُّكُمْ عَبيدُ أَمَة ہے بلکہ یہ کہے: غُلَامِي ، جَارِيَتِی ، فَتَايَ ، الله وَكُلٌّ نِسَائِكُمْ إمَاءُ اللَّهِ وَلَكِنْ لِيَقُلْ فَتَاتِي - میرا غلام، میری لڑکی ، میرا جوان، میری غُلَامِي وَجَارِيَتِي وَفَتَايَ وَفَتَاتِي [5874] خادمہ۔4164{14} و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبِ :4164 حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں رسول اللہ ہی ہے حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ نے فرمایا تم میں سے کوئی یہ نہ کہے میرا العبد ، تم سب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله کے عَبدہ ہو بلکہ تم کہو فَتَائی اور نہ ہی غلام (اپنے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ عَبْدِي آقا کو) رَبِّی کہے بلکہ سَيِّدِی کہے۔فَكُلُّكُمْ عَبيدُ اللهِ وَلَكِنْ لِيَقُلْ فَتَايَ وَلَا ایک اور روایت میں (وَلَا يَقُلُ الْعَبُدُ رَبِّی کی يَقُلِ الْعَبْدُ رَبِّي وَلَكِنْ لِيَقُلْ سَيِّدِي وحَدَّثَنَا بجائے) وَلَا يَقُلُ الْعَبْدُ لِسَيْدِهِ مَوْلَايَ کے أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْب قَالَ الفاظ ہیں اور ایک روایت میں یہ مزید ہے کہ یقیناً حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةً ح و حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدِ اللہ عزوجل ہی تم سب کا مولی ہے۔" 4163: اطراف مسلم كتاب الالفاظ من الادب وغيرها باب حكم اطلاق لفظة العبد والامة والمولى والسيد 4165،4164 تخریج : بخارى كتاب العتق باب كراهية التطاول على الرقيق۔۔۔2552 ابوداؤد کتاب الادب باب لا يقول المملوك ربي وربتي 4975 4164: اطراف: مسلم كتاب الالفاظ من الادب وغيرها باب حكم اطلاق لفظة العبد والامة والمولى۔۔۔4163، 4165 = ید اس سے مراد یہ ہے کہ آقا اپنے لئے لفظ رب کا استعمال نہ کرے اور نہ ہی کوئی غلام اپنے آقا کے لئے ربّ لفظ کا استعمال کرے بلکہ دوسرے الفاظ تجویز فرمائے۔سَيْدِی مَولائی اور ایسا ہی آقا کو یہ نصیحت کہ وہ اپنے غلاموں کے لئے عبدِی اور امتی کے الفاظ استعمال نہ کرے بلکہ اس کی بجائے دوسرا لفظ فَتَايَ ، فَتَاتِي ، غُلَامِي وغيرہ کہہ کر مخاطب کرے۔