صحیح مسلم (جلد دوازدہم)

Page 103 of 359

صحیح مسلم (جلد دوازدہم) — Page 103

تيح مسلم جلد دوازدهم الْمُهَاجِرِينَ وَاخْتَلَفُوا كَاخْتِلَافِهِمْ فَقَالَ ارْتَفِعُوا عَنِّي ثُمَّ قَالَ ادْعُ لِي مَنْ كَانَ 103 كتاب السلام أَنَّ الْوَبَاءَ قَدْ وَقَعَ بِالشَّامِ فَاخْتَلَفُوا فَقَالَ ہیں اور ہم آپ کا واپس لوٹنا مناسب نہیں سمجھتے اور بَعْضُهُمْ قَدْ خَرَجْتَ لِأَمْرِ وَلَا نَرَى أَنْ ان میں سے کچھ لوگوں نے کہا آپ کے ساتھ بہترین تَرْجِعَ عَنْهُ وَقَالَ بَعْضُهُمْ مَعَكَ بَقِيَّةُ النَّاسِ لوگ اور رسول اللہ ہی اللہ کے صحابہ میں اور ہم مناسب وَأَصْحَابُ رَسُولِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهُ خیال نہیں کرتے کہ آپ انہیں اس وباء میں لے وَسَلَّمَ وَلَا نَرَى أَنْ تَقْدِمَهُمْ عَلَى هَذَا الْوَبَاءِ جائیں۔آپ نے انہیں فرمایا آپ جا سکتے ہیں۔پھر فَقَالَ ارْتَفِعُوا عَنِّي ثُمَّ قَالَ ادْعُ لِيَ الْأَنْصَارَ آپ نے فرمایا میرے پاس انصار کو بلاؤ۔میں انہیں فَدَعَوْتُهُمْ لَهُ فَاسْتَشَارَهُمْ فَسَلَكُوا سَبِيلَ آپ کے پاس بلا لایا۔آپ نے ان سے مشورہ کیا انہوں نے بھی مہاجرین کا طریق اختیار کیا اور ان کی طرح مختلف آراء پیش کیں۔آپ نے فرمایا آپ لوگ جا سکتے ہیں۔پھر آپ نے فرمایا میرے پاس هَاهُنَا مِنْ مَشْيَحَة قَرَيْشٍ مِنْ مُهَاجِرَة قریش کے بزرگان کو بلاؤ جنہوں نے فتح مکہ کے الْفَتْحِ فَدَعَوْتُهُمْ فَلَمْ يَخْتَلِفْ عَلَيْهِ رَجُلَانِ موقعہ پر ہجرت کی تھی۔میں انہیں بلالا یا۔ان میں فَقَالُوا نَرَى أَنْ تَرْجِعَ بِالنَّاسِ وَلَا تُقْدِمَهُمْ سے کسی نے بھی اختلاف نہیں کیا۔انہوں نے کہا عَلَى هَذَا الْوَبَاءِ فَنَادَى عُمَرُ فِي النَّاسِ إِنِّي ہماری رائے ہے کہ آپ لوگوں کو واپس لے جائیں مُصْبحْ عَلَى ظَهْرِ فَأَصْبِحُوا عَلَيْهِ فَقَالَ أَبُو اور انہیں اس وبا میں نہ لے جائیں۔اس پر حضرت عمرؓ عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ أَفَرَارًا مِنْ قَدَرِ اللهِ فَقَالَ نے لوگوں میں اعلان کروا دیا کہ میں صبح ( واپسی کے کروادیا عُمَرُ لَوْ غَيْرُكَ قَالَهَا يَا أَبَا عُبَيْدَةَ وَكَانَ عُمَرُ لئے سوار ہوں گا آپ سب لوگ بھی صبح سوار ہو يَكْرَهُ خَلَافَهُ نَعَمْ نَفِرُّ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ إِلَى قَدَرِ جائیں۔اس پر حضرت ابو عبیدہ بن الجراح نے کہا کیا الله أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَتْ لَكَ إِبِلٌ فَهَبَطَتْ اللہ کی تقدیر سے بھاگتے ہیں؟ تو حضرت عمر نے فرمایا وَادِيًا لَهُ عُدْوَتَانِ إِحْدَاهُمَا خَصْبَةٌ اے ابو عبيده! کاش تمہارے علاوہ کوئی اور یہ بات وَالْأَخرَى جَدْبَةٌ أَلَيْسَ إِنْ رَعَيْتَ الْخَصْبَةَ کہتا !! - اور حضرت عمر بالعموم ان (حضرت ابو عبیدہ ) رَعَيْتَهَا بِقَدَر الله وَإنْ رَعَيْتَ الْجَدْبَةَ سے اختلافِ رائے کو ناپسند فرماتے تھے۔ہاں، ہم رَعَيْتَهَا بِقَدَرِ اللَّهِ قَالَ فَجَاءَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ اللہ کی تقدیر سے اللہ کی تقدیر کی طرف بھاگتے ہیں۔بْنُ عَوْفٍ وَكَانَ مُتَغَيِّبًا فِي بَعْض حَاجَتِه بتائیے اگر تمہارے پاس اونٹ ہوں اور وہ ایک ایسی