صحیح مسلم (جلد یازدہم)

Page 133 of 270

صحیح مسلم (جلد یازدہم) — Page 133

صحیح مسلم جلد یازدهم 133 كتاب الاشربة قِرَاكُمْ قَالَ ثُمَّ قَالَ أَمَّا الْأُولَى فَمِنَ آجائیں۔وہ کہتے ہیں آپ نے ان سے کہا آپ الشَّيْطَانِ هَلُمُّوا قِرَاكُمْ قَالَ فَجِيءَ لوگوں کو کیا ہوا کہ آپ ہماری طرف سے اپنی مہمانی بالطَّعَامِ فَسَمَّى فَأَكَلَ وَأَكَلُوا قَالَ فَلَمَّا قبول نہیں کرتے ؟ راوی کہتے ہیں حضرت ابو بکر أَصْبَحَ غَدَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے کہا اللہ کی قسم آج رات میں کھانا نہیں کھاؤں گا۔وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَرُّوا وَحَقْتُ راوی کہتے ہیں انہوں نے کہا اللہ کی قسم ! جب تک قَالَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ بَلْ أَنْتَ أَبَرُّهُمْ وَأَخَيْرُهُمْ آپ نہیں کھائیں گے ہم بھی نہیں کھائیں گے۔قَالَ وَلَمْ تَبْلُغْنِي كَفَّارَةً [5366] انہوں نے کہا میں نے اس رات جیسی خرابی کبھی نہیں دیکھی۔تمہارا بھلا ہو تمہیں کیا ہے کہ تم ہماری طرف سے اپنی مہمانی قبول نہیں کرتے۔راوی کہتے ہیں پھر انہوں نے کہا پہلی (قسم ) شیطان کی طرف سے تھی اپنا کھانا لاؤ ، راوی کہتے ہیں کھانا لایا گیا انہوں نے بسم اللہ پڑھی اور کھایا اور انہوں (مہمانوں ) نے بھی کھایا۔وہ کہتے ہیں جب صبح ہوئی تو آپ نبی ﷺ کے پاس گئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! ان کی قسم سچی ہوئی اور میری قسم باطل ہوئی۔راوی کہتے ہیں انہوں نے حضور کو ساری (بات) بتائی تو آپ نے فرمایا بلکہ تم ان سے زیادہ حسنِ سلوک کرنے والے، سچے اور ان سے بہتر ہو۔راوی کہتے ہیں کہ مجھ تک کفارہ کی خبر نہیں پہنچی۔