صحیح مسلم (جلد یازدہم)

Page 109 of 270

صحیح مسلم (جلد یازدہم) — Page 109

صحیح مسلم جلد یازدهم 109 كتاب الاشربة [22]5 : بَاب اسْتِحْبَابِ وَضْعِ النَّوَى خَارِجَ التَّمْرِ وَاسْتِحْبَابِ دُعَاءِ الصَّيْفِ لِأَهْلِ الطَّعَامِ وَطَلَبِ الدُّعَاءِ مِنَ الصَّيْف الصالح وَإِجَابَتِه لذلك اس بات کی پسندیدگی کا بیان کہ گٹھلی کھجور سے الگ رکھی جائے اور مہمان کا میزبان کے لئے دعا کرنے کی پسندیدگی کا بیان اور نیک مہمان سے دعا کی درخواست کرنا اور اس کا اس ( درخواست ) کو قبول کرنا صلى الله 3791{146} حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى 3791: عبداللہ بن بسر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں الْعَنَزِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ رسول الله ﷺ میرے باپ کے پاس بطور مہمان عَنْ يَزِيدَ بْنِ حُمَيْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ قَالَ تشریف لائے ہم نے آپ کی خدمت میں کھانا اور نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی و طبہ پیش کیا۔آپ نے اس میں سے کھایا پھر آپ أَبِي قَالَ فَقَرَّبْنَا إِلَيْهِ طَعَامًا وَوَطْبَةً فَأَكَلَ مِنْهَا کے پاس کھجور میں لائی گئیں آپ انہیں کھاتے تھے اور ثُمَّ أُتِيَ بِتَمْرٍ فَكَانَ يَأْكُلُهُ وَيُلْقِي النَّوَى بَيْنَ گٹھلی کو دو انگلیوں سے ( پکڑ کر) رکھتے۔اور شہادت کی إِصْبَعَيْهِ وَيَجْمَعُ السَّبَّابَةَ وَالْوُسْطَى قَالَ انگلی اور درمیانی کو ملا لیتے۔شعبہ کہتے ہیں یہ میرا گمان شُعْبَةُ هُوَ ظَنِّي وَهُوَ فِيهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ إِلْقَاءُ ہے اور اس طرح انشاء اللہ کہ دوانگلیوں کے درمیان گٹھلی النَّوَى بَيْنَ الْإِصْبَعَيْنِ ثُمَّ أَتِيَ بِشَرَابِ فَشَرِبَهُ کو اس طرح ڈالنا ہے۔2 پھر کوئی مشروب لا یا گیا آپ ثُمَّ نَاوَلَهُ الَّذِي عَنْ يَمِينِهِ قَالَ فَقَالَ أَبِي نے اُسے پیا پھر آپ نے وہ اسے دیا جو آپ کے دائیں وَأَخَذَ بِلجَامِ دَابَّتِهِ ادْعُ اللَّهَ لَنَا فَقَالَ اللَّهُمَّ طرف تھا۔وہ کہتے ہیں میرے والد نے کہا جبکہ انہوں بَارِك لَهُمْ فِي مَا رَزَقْتَهُمْ وَاغْفِرْ لَهُمْ نے آپ ﷺ کی سواری کی لگام پکڑی ہوئی تھی کہ اللہ وَارْحَمْهُمْ وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا سے ہمارے لئے دعا کیجئے۔آپ نے دعا کی اے اللہ ! :3791 : تخریج : ابوداؤد كتاب الاشربة باب فى النفخ في الشراب والتنفس فيه 3729 1 وطبہ سے مراد ایک میٹھا ہے جو کھجور، پنیر اور کبھی سے تیار کیا جاتا ہے۔2 یہ عبارت جیسا کہ شعبہ راوی نے اظہار کیا ہے۔قیاس پر مبنی ہے۔