صحیح مسلم (جلد دہم) — Page 21
مسلم جلد دهم 21 كتاب الامارة الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ أَبِي حُمَيْدِ عمرو اور ابن ابی عمر کہتے ہیں کہ صدقہ وصول کرنے السَّاعدي قَالَ اسْتَعْمَلَ رَسُولُ الله صَلَّى پر ( مقرر کیا )۔جب وہ ( واپس ) آیا تو اس نے کہا صلى الله اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنَ الْأَسْدِ يُقَالُ لَهُ یہ آپ لوگوں کے لئے ہے اور یہ میرے لئے ہے جو ابْنُ اللُّتْبِيَّةِ قَالَ عَمْرُو وَابْنُ أَبِي عُمَرَ عَلَى مُجھے تحفہ دیا گیا ہے۔راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ہے الصَّدَقَةِ فَلَمَّا قَدِمَ قَالَ هَذَا لَكُمْ وَهَذَا لِي منبر پر کھڑے ہوئے۔اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی أُهْدِي لِي قَالَ فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ اور فرمایا اُس عامل کو کیا ہوا ؟ کہ میں بھیجتا ہوں اور وہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى کہتا ہے یہ آپ لوگوں کا اور یہ مجھے تحفہ دیا گیا ہے۔عَلَيْهِ وَقَالَ مَا بَالُ عَامِلٍ أَبْعَتُهُ فَيَقُولُ هَذَا ایسا کیوں نہ ہوا وہ اپنے باپ کے گھر یا ماں کے گھر لَكُمْ وَهَذَا أُهْدِيَ لِي أَفَلَا قَعَدَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ بیٹھا رہتا پھر وہ دیکھتا کہ اسے تحفہ دیا جاتا ہے یا نہیں، أَوْ فِي بَيْتِ أُمِّهِ حَتَّى يَنْظُرَ أَيُهْدَى إِلَيْهِ أَمْ لَا اس کی قسم جس کے قبضہ میں محمد کی جان ہے تم میں وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَا يَنَالُ أَحَدٌ سے کوئی بھی اس میں سے کوئی چیز نہ لے گا مگر وہ منْكُمْ مِنْهَا شَيْئًا إِلَّا جَاءَ بهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قِیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ وہ اپنی يَحْمِلُهُ عَلَى عُنُقه بَعيرٌ لَهُ رُغَاء أَوْ بَقَرَةٌ لَهَا گردن پر بلبلاتا ہوا اونٹ اُٹھائے ہوئے ہوگا۔یا حُوَارٌ أَوْ شَاةٌ تَيْعِرُ ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْنَا گائے جو آواز نکال رہی ہوگی یا بکری جو شیخ رہی عُفْرَتَيْ إِبْطَيْهِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ ہوگی پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اُٹھائے یہانتک مَرَّتَيْنِ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ بْنُ کہ ہم نے آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھی پھر آپ حُمَيْدٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ نے دو مرتبہ فرمایا اے اللہ ! کیا میں نے پہنچا دیا ! عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ حضرت ابومحمد الساعدی سے روایت ہے وہ کہتے السَّاعِدِي قَالَ اسْتَعْمَلَ النَّبِيُّ صَلَّى الله ہیں کہ نبی ﷺ نے از وقبیلہ کے ابنُ اللُّتبيَّة کو عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَ اللَّتْبِيَّةِ رَجُلًا مِنَ الْأَزْدِ عَلَى صدقات جمع کرنے کے لئے عامل مقرر فرمایا۔وہ الصَّدَقَةِ فَجَاءَ بِالْمَالِ فَدَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ مال لے کر آیا اور اسے نبی ﷺ کو پیش کیا اور کہا یہ = تخريج : بخارى كتاب الحيل باب احتيال العامل ليهدى له 6979 كتاب الهبة وفضلها والتحريض عليها باب من لم يقبل صلى الله الهدية لعلة 2597 كتاب الايمان والنذور باب كيف كانت يمين النبي عام 6636 كتاب الاحكام باب هدايا العمال 7174 باب محاسبة الامام عمّاله 7197 ابوداؤد كتاب الخراج و الفيء۔باب في هدايا العمال 2946