صحیح مسلم (جلد دہم) — Page 11
مسلم جلد دهم 11 كتاب الامارة - الْيَمَنِ ثُمَّ أَتْبَعَهُ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ فَلَمَّا قَدِمَ عَلَيْهِ بھیجا پھر اُن کے پیچھے معاذ بن جبل کو بھیجا جب وہ اُن قَالَ انْزِلُ وَأَلْقَى لَهُ وِسَادَةً وَإِذَا رَجُلٌ عِنْدَهُ کے پاس پہنچے۔تو انہوں نے کہا اُتریں اور اُن کے مُوثَقٌ قَالَ مَا هَذَا قَالَ هَذَا كَانَ يَهُودِيًّا لئے تکیہ (کشن ) رکھا۔انہوں نے کیا دیکھا کہ اُن فَأَسْلَمَ ثُمَّ رَاجَعَ دِينَهُ دِینَ السَّوْءِ فَتَهَوَّدَ قَالَ کے پاس ایک شخص بندھا ہوا ہے۔انہوں نے کہا یہ لَا أَجْلِسُ حَتَّى يُقْتَلَ قَضَاءُ الله وَرَسُوله کیا (بات) ہے؟ انہوں نے جواب دیا یہ یہودی تھا۔فَقَالَ اجْلِسْ نَعَمْ قَالَ لَا أَجْلِسُ حَتَّى يُقْتَل پھر اس نے اسلام قبول کیا پھر یہ اپنے بُرے دین کی طرف لوٹ گیا اور یہودی ہو گیا۔انہوں (معاذ) نے کہا میں نہیں بیٹھوں گا یہانتک کہ وہ اللہ اور رسول کے فیصلہ کے مطابق قتل نہ کیا جائے ، انہوں (ابو موسیٰ) نے کہا ہاں ، آپ بیٹھیں۔انہوں نے کہا میں نہیں بیٹھوں گا جب تک وہ اللہ اور اس کے رسول کے فیصلہ کے مطابق قتل نہ کیا جائے گا۔تین دفعہ کہا۔پس انہوں نے اس کے بارہ میں حکم دیا اور وہ قتل کیا گیا۔پھر ان دونوں نے رات کی عبادت کا ذکر کیا۔ان میں سے ایک یعنی معاذ نے کہا جہاں تک میرا تعلق ہے میں سوتا بھی ہوں اور بیدار بھی ہوتا ہوں اور میں سونے میں بھی وہی امید رکھتا ہوں جو بیداری میں رکھتا ہوں۔قَضَاءُ الله وَرَسُولِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَأَمَرَ بِهِ فَقُتِلَ ثُمَّ تَذَاكَرَا الْقِيَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَقَالَ أَحَدُهُمَا مُعَاذْ أَمَّا أَنَا فَأَنَامُ وَأَقُومُ وَأَرْجُو فِي نَوْمَتِي مَا أَرْجُو فِي قَوْمَتِي [4718] [4]57:باب كَرَاهَةِ الْإِمَارَةِ بِغَيْرِ ضَرُورَةِ بلاضرورت امارت کی ناپسندیدگی کا بیان 3390{16} حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلكُ بْنُ شُعَيْبِ :3390 حضرت ابو ذر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں اللَّيْثِ حَدَّثَنِي أَبِي شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ میں نے کہا یا رسول اللہ ! کیا آپ مجھے عامل نہیں حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي بنائیں گے؟ وہ کہتے ہیں آپ نے اپنا ہاتھ میرے بن 3390 : اطراف مسلم كتاب الامارة باب كراهة الأمارة بغير ضرورة 3391 شخص حربی مرند تھا۔