صحیح مسلم (جلد نہم)

Page 44 of 301

صحیح مسلم (جلد نہم) — Page 44

صحیح مسلم 44 كتاب الحدود أَسَامَةُ صلى الله وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنِ ابْنِ میں ڈالا جس نے نبی ﷺ کے عہد میں غزوہ فتح شهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ (یکہ ) میں چوری کی تھی۔انہوں نے کہا اس کے بارہ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ میں رسول اللہ لہ سے کون بات کرے گا ؟ تو انہوں أَنْ قُرَيْشًا أَهَمَّهُمْ شَأْنُ الْمَرْأَةِ الَّتِي سَرَقَتْ نے کہا کہ اسامہ بن زید کے سوا جو رسول اللہ علیہ کو فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي محبوب ہے کون اس بات کی جرات کر سکتا ہے۔پس غَزْوَةِ الْفَتْحِ فَقَالُوا مَنْ يُكَلِّمُ فِيهَا رَسُولَ اس عورت کو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لایا گیا الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا وَمَنْ اور اُسامہ بن زید نے اس کے بارہ میں آپ سے يَجْتَرِئُ عَلَيْهِ إِلَّا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدِ حِبُّ رَسُولِ بات کی۔رسول اللہ ﷺ کے چہرہ کا رنگ متغیر ہو گیا الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُتِيَ بِهَا رَسُولُ اور آپ نے فرمایا کیا تم اللہ کی حدود میں ایک حد کے الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَلَّمَهُ فِيهَا بارہ میں سفارش کرتے ہو؟ حضرت اسامہ نے آپ بْنُ زَيْدِ فَتَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ سے عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے لئے اللہ سے بخشش صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَتَشفَعُ فِي حَدٌ طلب کیجئے۔پھر جب شام ہوئی رسول اللہ علے منْ حُدُودِ اللهِ فَقَالَ لَهُ أَسَامَةُ اسْتَغْفِرْ لِي يَا کھڑے ہوئے اور خطاب فرمایا۔آپ نے اللہ کی رَسُولَ اللَّهِ فَلَمَّا كَانَ الْعَشِيُّ قَامَ رَسُولُ ثناء بیان کی جس کا وہ مستحق ہے پھر فرمایا اما بعد تم الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاحْتَطَبَ فَأَثْنَى سے پہلے لوگوں کو اس بات نے ہلاک کیا کہ ان میں عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّمَا سے جب کوئی بڑا آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے أَهْلَكَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا اور جب ان میں سے کوئی کمزور چوری کرتا تو اس پر سَرَقَ فِيهِمُ الشَّرِيفَ تَرَكُوهُ وَإِذَا سَرَقَ حد قائم کرتے۔اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری فِيهِمُ الضَّعِيفُ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ وَإِنِّي جان ہے اگر فاطمہ بنت محمد نے بھی چوری کی ہوتی تو وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا۔پھر آپ نے اس عورت مُحَمَّد سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا ثُمَّ أَمَرَ بِتِلْكَ کے بارہ میں جس نے چوری کی تھی حکم دیا اور اس کا الْمَرْأَةِ الَّتِي سَرَقَتْ فَقُطِعَتْ يَدُهَا قَالَ ہاتھ کاٹ دیا گیا۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں اس کے يُونُسُ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ قَالَ عُرْوَةُ قَالَتْ بعد اس کی تو بہ بہت اچھی ہوئی اور اس نے شادی کر لی