صحیح مسلم (جلد نہم)

Page 31 of 301

صحیح مسلم (جلد نہم) — Page 31

صحیح مسلم جلد نهم 31 كِتَابُ القَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينِ أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ سَالِمٍ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ جس نے ایک آدمی کو قتل کر دیا تھا۔آپ نے اسے وَائِلٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى قصاص کے لئے مقتول کے ولی کے سپرد کر دیا اور وہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُل قَتَلَ رَجُلًا فَأَقَادَ وَلِيَّ اسے لے کر چلا اور اس کے گلے میں رہی تھی جسے وہ الْمَقْتُولِ مِنْهُ فَالطَلَقَ بِهِ وَفِي عُنقه نَسْعَةٌ کھینچتا تھا۔جب وہ واپس ہوا۔رسول اللہ ﷺ نے يَجُرُّهَا فَلَمَّا أَدْبَرَ قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى الله فرمایا قتل کرنے والا اور قتل ہونے والا دونوں آگ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ فَأَتَى میں ہیں۔ایک آدمی اس (یعنی مقتول کے بھائی کے رَجُلٌ الرَّجُلَ فَقَالَ لَهُ مَقَالَةَ رَسُولِ اللَّهِ پاس گیا اور اسے رسول اللہ ﷺ کی بات بتائی۔صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَلَّى عَنْهُ قَالَ اس نے اسے چھوڑ دیا۔ایک اور روایت میں ہے ابن صلى الله إِسْمَعِيلُ بْنُ سَالِمٍ فَذَكَرْتُ ذَلكَ لحَبیب اشوع نے بتایا کہ نبی مہ نے اسے معاف کرنے أَبِي ثَابِت فَقَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ أَسْوَعَ اُن کو کہا تھا تو اس نے انکار کیا تھا۔النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا سَأَلَهُ أَنْ يَعْفُو عَنْهُ فَأَبَى [4388] [11]11 : بَاب : دِيَةُ الْجَنينِ وَوُجُوبُ الدِّيَة فِي قَتْلِ الْخَطَا وَشِبْهِ الْعَمْدِ عَلَى عَاقِلَةِ الْجَانِي باب: جنین کی دیت اور قتل خطا اور قتل شبہ عمدہ میں دیت کا مجرم کے قبیلہ پر واجب ہوتا 3169{34} حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ :3169: حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ ھذیل قَرَأْتُ عَلَى مَالك عَن ابْنِ شِهَاب عَنْ أَبي قبیلہ کی دو عورتوں میں سے ایک نے دوسری کو پتھر مارا = 4730 كتاب آداب القضاة اشارة الحاكم على الخصم بالعفو 5415 ابوداؤد كتاب الديات باب الامام يامر بالعفو في الدم 4501۔4499 3169 : اطراف مسلم كتاب القسامة والمحاربين باب دية الجنين ووجوب الدية في قتل الخطأو شبه۔۔۔3170 ، 3171 = 1 - ابن اشوع صحابی بلکہ تا بھی بھی نہیں تھے۔2۔اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ Provocation اشتعال کی صورت میں قصاص لازمی نہیں۔واللہ اعلم۔-3 ایسا قتل جو ارادہ قتل کے مشابہ ہو گو حقیقہ ارادہ موجود نہ ہو۔