صحیح مسلم (جلد نہم)

Page 243 of 301

صحیح مسلم (جلد نہم) — Page 243

صحیح مسلم جلد نهم 243 كتاب الجهاد والسير صَلَّى الْوَارِثِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ سے اوٹ کئے ہوئے تھے۔وہ کہتے ہیں حضرت ابوطلحہ صُهَيْب عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِك قَالَ لَمَّا كَانَ زبر دست تیرانداز تھے۔اس دن انہوں نے دو یا تین يَوْمُ أُحُدٍ انْهَزَمَ نَاسٌ مِنَ النَّاسِ عَنِ النَّبِيِّ کمانیں توڑیں۔راوی کہتے ہیں جب کوئی شخص عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو طَلْحَةَ بَيْنَ تیروں کا ترکش لے کر گزرتا تو آپ فرماتے یہ ابوطلحہ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُجَوِّبٌ کے لئے بکھیر دو۔وہ کہتے ہیں نبی ﷺے سر اٹھا کر عَلَيْهِ بحَجَفَة قَالَ وَكَانَ أَبُو طَلْحَةَ رَجُلًا ان لوگوں کو دیکھتے تو ابوطلحہ کہتے اے اللہ کے نبی! رَامِيًا شَدِيدَ النَّزْعِ وَكَسَرَ يَوْمَئِذٍ قَوْسَيْنِ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، آپ سر اٹھا کر أَوْ ثَلَاثًا قَالَ فَكَانَ الرَّجُلُ يَمُرُّ مَعَهُ الْجَعْبَةُ نہ دیکھئے کہیں لوگوں کا کوئی تیر آپ کو نہ لگ جائے۔مِنَ النَّبْلِ فَيَقُولُ الْتُرْهَا لأَبي طَلْحَةَ قَالَ میرا سینہ آپ کے سینہ کے سامنے ہے۔وہ کہتے ہیں وَيُشْرِفُ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ میں نے حضرت عائشہ بنت ابی بکر اور ام سلیم کو دیکھا يَنظُرُ إِلَى الْقَوْمِ فَيَقُولُ أَبُو طَلْحَةَ يَا نَبِيَّ و مستعدی سے کام کر رہی تھیں مجھے ان کی پازیب نظر اللهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي لَا تُشْرِف لَا يُصِبْكَ آ رہی تھی۔وہ دونوں اپنی کمر پر مشکیں اُٹھا کر لاتی سَهُمْ مِنْ سِهَامِ الْقَوْمِ تَحْرِي دُونَ نَخَرِكَ تھیں پھر ان کے منہ (پانی) میں ڈالتی تھیں۔پھر قَالَ وَلَقَدْ رَأَيْتُ عَائِشَةَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ وَأُمَّ جاتیں اور پھر بھر کر لاتیں اور لوگوں کے منہ میں سُلَيْمٍ وَإِنَّهُمَا لَمُشَمِّرَتَانِ أَرَى خَدَمَ ڈالتیں اور حضرت ابوطلحہ کے ہاتھ سے اونگھ کی وجہ سُوقِهِمَا تَنْقُلَانِ الْقِرَبَ عَلَى مُتُونِهِمَا ثُمَّ سے دو یا تین مرتبہ تلوار گر پڑی۔تُفْرغانه فِي أَفْوَاهِهِمْ ثُمَّ تَرْجِعَانِ فَتَمْلَأَنِهَا ثُمَّ تَحِيتَانِ تُفْرِغَانِهِ فِي أَفْوَاهِ الْقَوْمِ وَلَقَدْ وَقَعَ السَّيْفُ مِنْ يَدَيْ أَبِي طَلْحَةَ إِمَّا مَرَّتَيْنِ وَإِمَّا ثَلَاثًا مِنَ النَّعَاسِ [4683]