صحیح مسلم (جلد نہم) — Page 11
صحیح مسلم جلد نهم 11 كِتَابُ القَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينِ الشَّمْسِ حَتَّى مَالُوا وقَالَ ابْنُ الصَّبَاحِ فِي اَطْرَدُ والنَّعَمَ کے الفاظ ہیں اور ( سُمِرَ أَعْيُنُهُمُ کی رِوَايَتِهِ وَاطْرَدُوا النَّعَمَ وَقَالَ وَسُمِّرَتْ بجائے ) سُمّرت أَعْيُنُهُمْ کے الفاظ ہیں۔أَعْيُنَهُمْ {11} و حَدَّلَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حضرت انس بن مالک کی ایک اور روایت ہے کہ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ رسول الله عے کے پاس عکل یا عرینہ کی قوم کے زَيْدِ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي رَجَاءِ مَوْلَى أَبِي لوگ آئے اور انہیں مدینہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی۔قلَابَةَ قَالَ قَالَ أَبُو قَلَابَةَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ رسول الله اللہ نے انہیں دودھ والی اونٹیوں میں مَالِكِ قَالَ قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ جانے کا ارشاد فرمایا اور آپ نے انہیں فرمایا کہ وہ ان عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمٌ مِنْ عُكْلِ أَوْ عُرَيْنَةَ کے پیشاب اور دودھ پئیں۔باقی روایت سابقہ فَاجْتَوَوُا الْمَدِينَةَ فَأَمَرَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ روایت کی طرح ہے مگر اس میں یہ مزید ہے کہ ان کی صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلِقَاحٍ وَأَمَرَهُمْ أَنَّ آنکھوں میں سلائیاں پھیری گئیں اور ان کو حرہ میں يَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا بِمَعْنَى حَدِیثِ ڈال دیا گیا وہ پانی مانگتے تھے مگر ان کو پانی نہ دیا جاتا۔حَجَّاجِ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ وَسَمِرَت ابوقلابہ سے روایت ہے انہوں نے کہا میں حضرت عمر أَعْيُنَهُمْ وَأَلْقُوا فِي الْحَرَّةِ يَسْتَسْقُونَ فَلَا بن عبد العزیز کے پیچھے بیٹھا تھا۔انہوں نے لوگوں يُسْقَوْنَ (12) و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى سے کہا تم قیامت کے بارہ میں کیا کہتے ہو؟ عنبہ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذَ ح و حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نے کہا کہ حضرت انس بن مالک نے ہم سے یہ یہ عُثْمَانَ التَوْفَلِيُّ حَدَّثَنَا أَزْهَرُ السَّمَّانُ قَالَ بیان کیا۔میں (ابوقلابہ ) نے کہا مجھ سے حضرت انس حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْن حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءِ مَوْلَى أَبي نے بیان کیا کہ نبی اے کے پاس ایک قوم آئی۔پھر قلَابَةَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ قَالَ كُنتُ جَالِسًا خَلْفَ باقی روایت انہوں نے راوی ایوب اور حجاج کی طرح عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَقَالَ لِلنَّاسِ مَا تَقُولُونَ بیان کی۔ابو قلابہ کہتے ہیں جب میں فارغ ہوا تو الْقَسَامَة فَقَالَ عَنْبَسَةُ قَدْ حَدَّثَنَا أَنَسُ عنبہ نے کہا سبحان اللہ۔بْنُ مَالك كَذَا وَكَذَا فَقُلْتُ إِيَّايَ حَدَّثَ ابو قلابہ کہتے ہیں میں نے کہا اے عنبہ ! کیا آپ مجھے أَنَسٌ قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ پر تہمت لگا رہے ہیں انہوں نے کہا نہیں ہم سے بھی قَوْمٌ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ أَيُّوبَ حضرت انس بن مالک نے اسی طرح بیان کیا تھا في