صحیح مسلم (جلد نہم)

Page 228 of 301

صحیح مسلم (جلد نہم) — Page 228

مسلم جلد نهم 228 كتاب الجهاد والسير تَرْعَى بِذِي قَرَدِ قَالَ فَلَقِيَنِي غُلَامٌ لَعَبْدِ ملا۔اس نے کہا رسول اللہ ﷺ کی دودھ دینے والی الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفِ فَقَالَ أَخذَتْ لَقَاحُ اونٹنیاں چھین لی گئی ہیں۔میں نے کہا انہیں کس نے رَسُولِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَلْتُ چھینا ہے؟ اس نے کہا غطفان نے۔وہ کہتے ہیں میں مَنْ أَخَذَهَا قَالَ غَطَفَانُ قَالَ فَصَرَخت نے تین بار چلا کر کہا یا صباحاہ * وہ کہتے ہیں میں نے ثَلَاثَ صَرَخَاتِ يَا صَبَاحَاهُ قَالَ فَأَسْمَعْتُ لاوے کے دو میدانوں کے درمیان (سارے) مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ ثُمَّ الدَفَعْتُ عَلَى مدين والوں کو سنا دیا۔پھر میں سیدھا چلا یہانتک کہ انہیں ذی قرد میں جالیا۔وہ پانی پلانے لگے ہی تھے کہ میں ان پر تیر برسانے لگا اور میں (اچھا ) تیرانداز تھا اور میں کہتا تھا میں ابن اکوع ہوں آج کمینوں (کی وَجْهِي حَتَّى أَدْرَكْتُهُمْ بِذِي قَرَد وَقَدْ أَخَذُوا يَسْقُونَ مِنَ الْمَاء فَجَعَلْتُ أَرْمِيهِمْ ہے بِنَيْلِي وَكُنْتُ رَامِيًا وَأَقُولُ أَنَا ابْنُ الْأَكْوَعِ تباہی کا دن ہے۔میں رجزیہ اشعار پڑھتا رہا وَالْيَوْمَ يَوْمُ الرُّضْعِ فَأَرْتَجِزُ حَتَّى یہانتک کہ میں نے ان سے اونٹنیاں چھڑ والیں اور صلى الله اسْتَنْقَذَتُ اللقَاحَ مِنْهُمْ وَاسْتَلَبْتُ مِنْهُمْ ان سے میں چادریں چھین لیں۔وہ کہتے ہیں نبی علی کے ثَلَاثِينَ بُرْدَةً قَالَ وَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ اور دوسرے لوگ آئے۔میں نے کہا اے اللہ کے نبی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي میں نے ان لوگوں کو پانی سے روک دیا اور وہ پیاسے قَدْ حَمَيْتُ الْقَوْمَ الْمَاءَ وَهُمْ عِطَاسٌ فَابْعَتْ ہیں۔اس وقت ان کی طرف (لشکر) بھیجئے۔آپ نے إِلَيْهِمْ السَّاعَةَ فَقَالَ يَا ابْنَ الْأَكْوَعِ مَلَكْتَ فرمایا اے ابن اکوع تم نے غلبہ پالیا۔اب نرمی کا سلوک فَأَسْجِحْ قَالَ ثُمَّ رَجَعْنَا وَيُرْدِقُنِي رَسُولُ کر وہ کہتے ہیں پھر ہم لوٹے اور رسول اللہ علیہ نے الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَاقَتِهِ حَتَّی اپنی اونٹنی پر مجھے اپنے پیچھے بٹھا لیا یہانتک کہ ہم مدینہ دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ [4677] میں داخل ہو گئے۔1323358) حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبي شَيْبَةَ :3358 اياس بن سلمہ کہتے ہیں کہ مجھے میرے والد حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ نے بتایا انہوں نے کہا ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ یا صباحاہ، یہ الفاظ خطرہ کے وقت بولے جاتے تھے۔3358 : اطراف : مسلم كتاب الجهاد والسير باب غزوة ذي قرد وغيرها 3357 تخریج : بخارى كتاب الجهاد والسير باب صرته يا صباه حتى يسمع الناس 3041 كتاب المغازی باب غزوة ذات قرد وهى الغزوة التي اغاروا فيها۔۔۔4194 ابو داؤد كتاب الجهاد باب في السرية ترد على اهل العسكر 2752