صحیح مسلم (جلد نہم)

Page 221 of 301

صحیح مسلم (جلد نہم) — Page 221

صحیح مسلم جلد نهم 221 كتاب الجهاد والسير اللَّهَ فَتَحَهَا عَلَيْكُمْ قَالَ فَلَمَّا أَمْسَى النَّاسُ اللہ تعالیٰ نے اسے تمہارے لئے فتح کر دیا ہے۔راوی مَسَاءَ الْيَوْمِ الَّذِي فُتِحَتْ عَلَيْهِمْ أَوْقَدُوا نے کہا جب وہ شام ہوئی جس سے اگلے دن فتح ہوئی نِيرَانَا كَثِيرَةً فَقَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ تو لوگوں نے بہت سی آگیں جلائیں۔رسول اللہ ہے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا هَذِهِ النِّيرَانُ عَلَى أَيِّ شَيْءٍ نے فرمایا یہ آ گیں کیسی ہیں؟ کس چیز کے لئے یہ آگ تُوقِدُونَ فَقَالُوا عَلَى لَحْمٍ قَالَ أَيُّ لَحْمِ جلاتی ہے ؟ انہوں نے کہا گوشت کے لئے۔آپ قَالُوا لَحْمُ حُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ فَقَالَ رَسُولُ الله نے فرمایا کونسا گوشت؟ انہوں نے کہا پالتو گدھوں کا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْرِيقُوهَا گوشت۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انہیں گرا دو اور وَاكْسِرُوهَا فَقَالَ رَجُلٌ أَوْ يُهْرِيقُوهَا ان ہانڈیوں کو ) توڑ دو۔اس پر ایک شخص نے کہا ( وَيَغْسِلُوهَا فَقَالَ أَوْ ذَاكَ قَالَ فَلَمَّا تَصَاف یا ان کو الٹا دیں اور دھو لیں۔آپ نے فرمایا یا ایسے الْقَوْمُ كَانَ سَيْفُ عَامِرٍ فِيهِ قَصَرٌ فَتَنَاوَلَ به کرلو۔راوی کہتے ہیں جب لوگ صف آراء ہوئے تو سَاقَ يَهُودِي لِيَضْرِبَهُ وَيَرْجِعُ وَيَرْجِعُ ذُبَابُ سَيْفه عامر کی تلوار چھوٹی تھی۔انہوں نے ایک یہودی کو فَأَصَابَ رُكْبَةَ عَامِرٍ فَمَاتَ مِنْهُ قَالَ فَلَمَّا مارنے کے لئے اس کی پنڈلی پر تلوار چلائی اور اس کی قَفَلُوا قَالَ سَلَمَةً وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِي قَالَ فَلَمَّا تلوار کی دھار واپس آکر عامر کے گھٹنے کولگی اور وہ اس رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے فوت ہو گئے۔راوی کہتے ہیں جب لوگ لوٹے تو سَاكِنَا قَالَ مَا لَكَ قُلْتُ لَهُ فَدَاكَ أَبي وَأُمِّي سلمہ نے کہا اور وہ میرا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے۔زَعَمُوا أَنَّ عَامِرًا حَبِطَ عَمَلُهُ قَالَ مَنْ قَالَهُ انہوں نے کہا جب رسول اللہ ﷺ نے مجھے خاموش قُلْتُ فُلَانٌ وَفُلَانٌ وَأُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ دیکھا تو فرمایا تجھے کیا ہوا ہے؟ میں نے عرض کیا آپ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالَ كَذَبَ مَنْ قَالَهُ إِنَّ لَهُ پر میرے ماں باپ فدا ہوں۔لوگ کہتے ہیں کہ عامر لَأَجْرَيْنِ وَجَمَعَ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ إِنَّهُ لَجَاهِدٌ کے اعمال ضائع ہو گئے۔آپ نے فرمایا کس نے ایسا مُجَاهِدٌ قَلَّ عَرَبِيٌّ مَشَى بِهَا مِثْلَهُ وَخَالَفَ کہا ؟ میں نے عرض کیا فلاں فلاں اور اسید بن حضیر انصاری نے۔آپ نے فرمایا جس نے ایسی بات کہی قُتَيْبَةُ مُحَمَّدًا فِي الْحَدِيثِ فِي حَرْفَيْنِ وَفِي رِوَايَة ابْنِ عَبَّادٍ وَأَلْقِ سَكِينَةً عَلَيْنَا اس نے غلط کہا۔اس کے لئے تو دو اجر ہیں اور آپ [4668] نے اپنی دو انگلیاں ملائیں (پھر فرمایا ) وہ تو جہاد