صحیح مسلم (جلد نہم) — Page 175
صحیح مسلم جلد نهم 175 كتاب الجهاد والسير [28] 30 : بَاب : فِي غَزْوَةِ حُنَيْنٍ باب : غزوہ حنین کے بارہ میں صلى الله 3310{76 و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهر أَحْمَدُ 3310 : ابن شہاب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْب مجھے كثير بن عباس بن عبد المطلب نے بتا یا وہ کہتے أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَاب قَالَ حَدَّثَنِي ہیں حضرت عباس نے کہا میں حنین کے دن كَثِيرُ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ قَالَ رسول الله علیہ کے ساتھ تھا۔میں اور ابو سفیان عَبَّاسٌ شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الله بن حارث بن عبد المطلب رسول اللہ ﷺ کے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ فَلَزِمْتُ أَنَا وَأَبُو ساتھ ساتھ رہے اور آپ سے علیحدہ نہ ہوئے۔سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ بنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رسول اللہ ﷺ اپنی سفید فیچر پر جو آپ کو فروہ بن رَسُولَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نفاشہ جذامی نے تحفہ دیا تھا سوار تھے جب مسلمانوں تَفَارِقْهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اور کفار کی مٹھ بھیر ہوئی تو مسلمانوں نے پیٹھ پھیر عَلَى بَعْلَة لَهُ بَيْضَاءَ أَهْدَاهَا لَهُ فَرْوَةُ بْنُ لی۔رسول اللہ ﷺ اپنی خچر کو کفار کی طرف تیزی ثفَاثَةَ الْجُذَامِيُّ فَلَمَّا الْتَقَى الْمُسْلِمُونَ سے برابر بڑھاتے رہے۔حضرت عباس کہتے ہیں۔وَالْكُفَّارُ وَلَّى الْمُسْلِمُونَ مُدْبِرِينَ فَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْكُضُ میں رسول اللہ ﷺ کی خچر کی لگام پکڑے ہوئے۔يَعْلَتَهُ قِبَلَ الْكُفَّارِ قَالَ عَبَّاس وَأَنَا آخذ تیز چلنے سے روک رہا تھا اور ابوسفیان رسول اللہ میر کی رکاب پکڑے ہوئے تھے۔رسول اللہ ﷺ نے بِلجَامِ بَعْلَةِ رَسُولِ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكُفَّهَا إِرَادَةَ أَنْ لَا تُسْرِعَ وَأَبُو فرمایا اے عباس اصحاب سمرہ کو بلاؤ عباس کہتے ہیں۔سُفْيَانَ آخِذٌ بِرِكَابِ رَسُول الله صَلَّى الله اور وہ بلند آواز آدمی تھے۔اصحاب سمرہ کہاں ہیں؟ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ وہ کہتے ہیں اللہ کی قسم ! جب انہوں نے میری آواز سنی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْ عَبَّاسُ نَادِ أَصْحَابَ تو گویا ان کا لوٹنا ایسے تھا جیسے گائے اپنے بچوں کی السَّمْرَةِ فَقَالَ عَبَّاس وَكَانَ رَجُلًا صَيْنَا طرف (شفقت کی وجہ سے ) جاتی ہے۔انہوں نے سمرہ سے مراد وہ درخت ہے جس کے نیچے حدیبیہ کے موقع پر صحابہ نے بیعت کی تھی۔