صحیح مسلم (جلد نہم) — Page 158
صحیح مسلم جلد نهم 158 كتاب الجهاد والسير الْمُسْلِمينَ إِلَّا أَنَّ بَعْضَهُمْ لَحقُوا بِرَسُول سب یہودیوں بنو قینقاع جو حضرت عبداللہ بن سلام الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَآمَنَهُمْ کی قوم تھی اور بنی حارثہ کے یہود اور ہر اس یہودی کو اور وَأَسْلَمُوا وَأَجْلَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله جو مدینہ میں تھا جلا وطن کر دیا۔عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهُودَ الْمَدِينَةِ كُلُّهُمْ بَنِي قَيْنُقَاعَ وَهُمْ قَوْمُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامِ وَيَهُودَ بَنِي حَارِثَةَ وَكُلَّ يَهُودِيِّ كَانَ بِالْمَدِينَة و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ عَنْ مُوسَى بِهَذَا الْإِسْنَادِ هَذَا الْحَدِيثَ وَحَدِيثُ ابْنِ جُرَيْجٍ أَكْثَرُ وَأَتَم [4593,4592] دیا۔1 [21]23: بَاب : إِخْرَاجُ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ باب : یہود اور نصاریٰ کا جزیرہ عرب سے اخراج 3299(63) وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبِ :3299 حضرت جابر بن عبد اللہ کہتے ہیں انہیں حَدَّثَنَا الصَّحَّاكُ بْنُ مَحْلَدٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْج حضرت عمر بن خطاب نے بتایا کہ انہوں نے ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعِ وَاللَّفْظُ لَهُ رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا میں یہود اور حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْج نصاری کو ضرور جزیرۂ عرب سے نکال دوں گا اور أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ مسلمانوں کے سوا کسی کو نہ چھوڑوں گا۔3299 : تخریج ترمذی کتاب السير باب ماجاء في اخراج اليهود والنصارى من جزيرة العرب 1606 ، 1607 ابوداؤد كتاب الخراج والفيء والامارة باب فى اخراج اليهود من جزيرة العرب 3030 1: حضرت ابو ہریرہ حضور ﷺ کی وفات سے صرف تین سال قبل اسلام لائے اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت یہود کی آبادی خاصی تعداد میں مدینہ میں موجود تھی۔اس لئے بنو قریظہ کے قتل عام کی روایات میں مبالغہ کا عصر شامل معلوم ہوتا ہے۔2 : یہ اور اس مضمون کی دوسری احادیث کو پڑھتے ہوئے اس آیت کے مضمون کو مد نظر رکھنا چاہئے کہ لَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَا تِلُوكُمُ۔۔۔۔۔۔۔۔۔الآية ( الممتحنه : 9)