صحیح مسلم (جلد ہشتم)

Page 155 of 328

صحیح مسلم (جلد ہشتم) — Page 155

صحیح مسلم جلد هشتم 155 كتاب المساقاة هُوَ لَكَ قَالَ لَا بَلْ بِعْنِيهِ قَالَ قُلْتُ لَا بَلْ هُوَ آپ کی خدمت میں اونٹ لے کر حاضر ہوا۔آپ لَكَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ لَا بَلْ بِعْنِیهِ قَالَ قُلْتُ نے مجھے اس کی قیمت دے دی اور وہ (اونٹ) بھی فَإِنَّ لِرَجُلٍ عَلَيَّ أُوقِيَّةَ ذَهَب فَهُوَ لَكَ بِهَا مُجھے واپس کر دیا۔قَالَ قَالَ قَدْ أَخَذْتُهُ فَتَبَلَّغْ عَلَيْهِ إِلَى الْمَدِينَة قَالَ ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت جابر بیان کرتے فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ قَالَ رَسُولُ الله صَلَّی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مکہ سے مدینہ اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَلَالِ أَعْطِهِ أُوقِيَّةً مِنْ ذَهَب آئے تو میرا اونٹ بیمار پڑ گیا پھر باقی روایت اسی وَزِدْهُ قَالَ فَأَعْطَانِي أُوقِيَّةً مِنْ ذَهَب طرح بیان کی۔اس روایت میں یہ ہے کہ پھر آپ ﷺ وَزَادَنِي قِيرَاطَا قَالَ فَقُلْتُ لَا تُفَارِقُنِي زِيَادَةً نے مجھے فرمایا کہ یہ اونٹ میرے پاس بیچ دو۔میں نے عرض کیا نہیں حضور یہ آپ کا ہی ہے۔آپ نے رَسُول اللَّه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فرمایا نہیں بلکہ اسے میرے پاس فروخت کرو۔میں فَكَانَ فِي كيس لِي فَأَخَذَهُ أَهْلُ السَّامِ يَوْمَ نے کہا نہیں بلکہ یا رسول اللہ! وہ آپ کا ہی ہے۔الْحَرَّةِ {112} حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلِ الْجَحْدَرِيُّ آپ نے فرمایا نہیں بلکہ یہ میرے پاس بیچ دو۔میں حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا نے عرض کیا کہ مجھ پر ایک اوقیہ سونا قرض ہے۔یہ الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اونٹ اس ( اُوقیہ ) کے عوض آپ کا ہوا۔آپ نے الله قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فرمایا میں نے لے لیا تم اس پر مدینہ پہنچو۔وہ کہتے فِي سَفَرٍ فَتَخَلَّفَ نَاضِحِي وَسَاقَ الْحَدِيثَ ہیں کہ جب میں مدینہ پہنچا تو رسول اللہ ﷺ نے وَقَالَ فِيهِ فَنَحَسَهُ رَسُولُ الله صلى الله حضرت بلال سے فرمایا اسے سونے کا ایک اوقیہ صَلَّى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ لِي ارْكَبُ بِاسْمِ الله دے دو اور اسے کچھ زیادہ بھی دینا۔جابڑ کہتے ہیں کہ وَزَادَ أَيْضًا قَالَ فَمَا زَالَ يَزِيدُنِي وَيَقُولُ انہوں نے مجھے ایک اوقیہ سونا اور ایک قیراط زائد دیا۔وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ [4102,4101,4100] وہ کہتے ہیں میں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کا یہ زائد (انعام ) مجھ سے جدا نہ ہونے پائے گا۔وہ کہتے ہیں کہ وہ میری ایک تھیلی میں تھا جو اہل شام نے یوم الحرہ * میں چھین لی۔ایک اور روایت میں ہے ليوم الحرة :63 ھ میں مدینہ پر حملہ کا واقعہ۔