صحیح مسلم (جلد ہشتم) — Page 154
حیح مسلم جلد هشتم 154 كتاب المساقاة غَيْرُهُ قَالَ فَقُلْتُ نَعَمْ فَبِعْتُهُ إِيَّاهُ عَلَى أَنَّ لِي علاوہ کوئی پانی لانے والا اونٹ نہ تھا۔وہ کہتے ہیں میں فَقَارَ ظَهْرِهِ حَتَّى أَبْلُغَ الْمَدِينَةَ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ نے کہا جی ہاں اور میں نے اسے آپ کے پاس بیچ دیا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي عَرُوسٌ فَاسْتَأْذَنْتُهُ فَأَذِنَ اس بات پر ہ مدینہ پہنچنے تک میں اس پر سوار رہوں گا۔فَتَقَدَّمْتُ النَّاسَ إِلَى الْمَدِينَةِ حَتَّى وہ کہتے ہیں کہ میں نے آپ سے عرض کیا یا رسول اللہ ! التَهَيْتُ فَلَقِيَنِي حَالِي فَسَأَلَنِي عَنِ الْبَعِيرِ میں نے نئی نئی شادی کی ہے اور میں نے آپ سے فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا صَنَعْتُ فِيهِ فَلَامَنِي فِيهِ قَالَ اجازت چاہی۔آپ نے مجھے اجازت دے دی اور وَقَدْ كَانَ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ میں مدینہ کی طرف لوگوں سے آگے نکل گیا اور وہاں وَسَلَّمَ قَالَ لي حينَ اسْتَأْذَلَتُهُ مَا تَزَوَّجت پہنچ گیا۔میرے ماموں مجھے ملے انہوں نے مجھ سے أَبكرًا أَمْ ثَيْبًا فَقُلْتُ لَهُ تَزَوَّجْتُ ثَيِّبًا قَالَ اونٹ کے بارہ میں پوچھا۔میں نے اس کے بارہ میں أَفَلَا تَزَوَّجْتَ بِكْرًا تُلَاعْبُكَ وَتُلَاعْبُهَا جو میں نے کیا تھا بتایا تو انہوں نے مجھے اس پر ملامت فَقُلْتُ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ تُوُفِّيَ والدي او کی۔وہ کہتے ہیں کہ جب میں نے رسول اللہ علی اسْتُشْهِدَ وَلِي أَخَوَاتٌ صِغَارٌ فَكَرِهْتُ أَنْ سے اجازت مانگی تھی تو آپ نے مجھے فرمایا تھا کہ تم أَتَزَوَّجَ إِلَيْهِنَّ مِثْلَهُنَّ فَلَا تُوَدِّبُهُنَّ وَلَا تَقُومُ نے کس سے شادی کی ہے؟ کنواری سے یا بیوہ سے؟ عَلَيْهِنَّ فَتَزَوَّجْتُ ثَيِّبًا لِتَقُومَ عَلَيْهِنَّ میں نے آپ سے عرض کیا کہ بیوہ سے شادی کی وَتُؤَدِّبَهُنَّ قَالَ فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ الله صَلَّی ہے۔آپ نے فرمایا کہ تم نے کنواری سے کیوں نہ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ غَدَوْتُ إِلَيْهِ شادی کی؟ وہ تم سے کھیلتی اور تم اس سے کھیلتے۔میں بِالْبَعِيرِ فَأَعْطَانِي ثَمَنَهُ وَرَدَّهُ عَلَيَّ (111) نے آپ سے عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے والد فوت حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ہو گئے یا کہا کہ شہید ہو گئے اور میری چھوٹی بہنیں ہیں عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ اس لئے میں نے پسند نہ کیا کہ ان کے پاس ان جیسی جَابِرٍ قَالَ أَقْبَلْنَا مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ مَعَ بیاہ کر لاؤں جو ان کی تربیت نہ کر سکے۔نہ ان کا خیال رَسُولِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاعْتَل رکھ سکے۔اس لئے بیوہ سے شادی کی تاکہ وہ ان کا جَمَلِي وَسَاقَ الْحَدِيثَ بقصَّته وَفِيهِ ثُمَّ خیال رکھے اور ان کی تربیت کرے۔وہ کہتے ہیں کہ لِي بِعْنِي جَمَلَكَ هَذَا قَالَ قُلْتُ لَا بَلْ پھر جب رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے ، میں صبح قَالَ