صحیح مسلم (جلد ہشتم)

Page 102 of 328

صحیح مسلم (جلد ہشتم) — Page 102

صحیح مسلم جلد هشتم 102 كتاب المساقاة الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ کرنے سے ) ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔جب تم میں صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَضْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ سے کسی کو ( قرض کی ادائیگی کے لئے ) کسی صاحب وَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيءٍ فَلْيَتْبَعْ حَدَّثَنَا استطاعت کے سپرد کیا جائے تو اسے چاہئے کہ وہ اس إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُس کو مان لے۔ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَا جَمِيعًا حَدَّثَنَا مَعْمَرُ عَنْ هَمَّامٍ بْنِ مُنَبِّهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ [4003,4002] [8]29: بَاب : تَحْرِيمُ بَيْعِ فَضْلِ الْمَاءِ الَّذِي يَكُونُ بِالْفَلَاةِ وَيُحْتَاجُ إِلَيْهِ الرغي الكلا وَتَحْرِيمُ مَنْعِ بَذَلِهِ وَتَحْرِيمُ بَيْعِ ضَرَابَ الْفَحْلِ باب جنگل میں موجود زائد پانی فروخت کرنے کی ممانعت جبکہ گھاس کی حفاظت کے لئے اس کی ضرورت ہو اور اس کے استعمال سے روکنے کی ممانعت اور نر و مادہ کو ملانے کے لئے اجرت لینے کی ممانعت 2911{34} وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ 2911 : حضرت جابر بن عبد اللہ کہتے ہیں کہ أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ رسول اللہ ﷺ نے زائد از ضرورت پانی فروخت حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ جَمِيعًا عَن ابن کرنے سے منع فرمایا۔جُرَيْجٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ فَضْلِ الْمَاءِ [4004] 2911 : اطراف : مسلم كتاب المساقاة باب تحريم بيع فضل الماء الذي يكون بالفلاة۔2912 تخریج نسائی کتاب البیوع بيع ا الماء 4660 ، 4661 بيع فضل الماء 4662 ، 4663 بيع ضراب الجمل 4670 ابن ماجه كتاب الرهون باب النهي عن بيع الماء 2476 ، 2477 ابو داؤد كتاب البيوع باب في بيع فضل الماء 3478