صحیح مسلم (جلد ہشتم) — Page 93
حیح مسلم جلد هشتم 93 كتاب المساقاة رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي میں تشریف فرما تھے۔یہاں تک کہ آپ نے انہیں سن الْمَسْجِد فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا حَتَّى لیا۔رسول اللہ علی ان کی طرف نکلے۔آپ نے ﷺ سَمِعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اپنے حجرہ کا پردہ ہٹایا اور کعب بن مالک کو آواز دی اور وَهُوَ فِي بَيْتِهِ فَخَرَجَ إِلَيْهِمَا رَسُولُ اللَّهِ فرمایا اے کعب! انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى كَشَفَ سِجْفَ حاضر ہوں۔آپ نے انہیں اپنے ہاتھ کے اشارہ حُجْرَتِهِ وَنَادَى كَعْبَ بْنَ مَالِكِ فَقَالَ يَا سے فرمایا اپنے قرضہ میں سے نصف کم کردو۔كَعْبُ فَقَالَ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَشَارَ إِلَيْهِ کعب نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں نے کر دیا۔بيده أَنْ ضَعْ الشَّطْرَ مِنْ دَيْنِكَ قَالَ كَعْبٌ رسول اللہ ﷺ نے ابن ابی حدرد سے ) فرمایا اُٹھو قَدْ فَعَلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ اور یہ ادا کر دو۔صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُمْ فَاقْضِهِ (21) و ایک اور روایت میں حضرت کعب بن مالک سے حَدَّثَنَاهُ إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ مروی ہے کہ انکا ( کچھ ) مال حضرت عبد اللہ بن ابی بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ حداد اسلمی کے ذمہ تھا۔وہ ان سے ملے اور انکے عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكِ أَنْ كَعْبَ بْنَ پیچھے پڑ گئے ان دونوں نے تکرار کی۔ان کی آواز میں مَالِكِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ تَقَاضَى دَيْنَا لَهُ عَلَى ابْنِ بلند ہو گئیں۔رسول اللہ ﷺ ان کے پاس أَبي حَدْرَدٍ بمثل حَدِيثِ ابْنِ وَهْبٍ قَالَ گذرے اور اپنے ہاتھ کے اشارہ سے فرمایا گویا آپ مُسْلِم وَرَوَى اللَّيْثُ بْنُ سَعْدِ حَدَّثَنِي تَعْفَرُ بْنُ رَبيعَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْن هُرْمُوَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْن كَعْبِ بْن مَالك عَنْ كَعْبٍ بن مَالك أَنَّهُ كَانَ لَهُ مَالٌ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْن أَبِي حَدْرَدِ الْأَسْلَمِيِّ فَلَقِيَهُ فَلَزِمَهُ فَتَكَلَّمَا حَتَّى ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا فَمَرَّ بِهِمَا رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا كَعْبُ فَأَشَارَ بَيده كَأَنَّهُ يَقُولُ النِّصْفَ فَأَخَذَ نِصْفًا مِمَّا عَلَيْهِ وَتَرَكَ نِصْفًا [3985,3984] ހނ فرما رہے تھے آدھا لے لو۔) حضرت کعب نے قرض میں سے نصف لے لیا اور نصف چھوڑ دیا۔