صحیح مسلم (جلد ہفتم)

Page 58 of 297

صحیح مسلم (جلد ہفتم) — Page 58

صحیح مسلم جلد هفتم 58 كتاب النكاح إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمِ فَسَاءَ صَبَاحُ ڈرائے جانے والوں کی صبح بُری ہوتی ہے۔راوی الْمُنْذِرِينَ قَالَ وَهَزَمَهُمُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ کہتے ہیں اللہ عز وجل نے اہل خیبر کو پسپا کر دیا اور وَوَقَعَتْ فِي سَهُم دِحْيَةَ جَارِيَةٌ جَمِيلَةٌ حضرت دحیہ کے حصہ میں ایک خوبصورت لڑکی آئی۔فَاسْتَرَاهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ رسول اللہ اللہ نے انہیں سات کس کے عوض خرید وَسَلَّمَ بِسَبْعَةِ أَرْؤُسٍ ثُمَّ دَفَعَهَا إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ لیا۔پھر اسے ام سلیم کے سپرد کیا کہ وہ آپ کے لئے تُصَنْعُهَا لَهُ وَتُهَيَّتُهَا قَالَ وَأَحْسِبُهُ قَالَ ان کو تیار کریں۔ایک راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے وَتَعْتَدُّ فِي بَيْتِهَا وَهِيَ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ قَالَ اور آپ نے (یہ بھی ) فرمایا تھا کہ وہ ان کے گھر عدت وَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ پوری کرے اور یہ صفیہ بنت حی تھیں۔راوی کہتے وَلِيمَتَهَا السَّمْرَ وَالْأَقطَ وَالسَّمْنَ فَحَصَت ہیں اور رسول اللہ علیہ نے اپنا ولیمہ کھجور ، پنیر اور گھی الْأَرْضُ أَفَاحِيصَ وَجِيءَ بِالْأَنْطَاعِ سے کیا اور زمین میں ( پیالہ نما) گڑھے سے بنائے فَوُضِعَتْ فِيهَا وَجِيءَ بِالْأَقِطِ وَالسَّمْنِ گئے اور دستر خوان لا کر ان میں رکھے گئے اور پنیر فَشَبِعَ النَّاسُ قَالَ وَقَالَ النَّاسُ لَا نَدْرِي اور گھی لایا گیا اور لوگ سیر ہو گئے۔راوی کہتے ہیں اور أَتَزَوَّجَهَا أَمْ اتَّخَذَهَا أُمَّ وَلَد قَالُوا إِنْ لوگوں نے کہا ہمیں معلوم نہیں کہ آپ نے ان سے حَجَبَهَا فَهِيَ امْرَأَتُهُ وَإِنْ لَمْ يَحْجُبُهَا فَهِيَ شادی کی ہے یا انہیں بطور ام ولد لیا ہے۔پھر وہ کہنے وَلَد فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَبَ حَجَبَهَا لگے کہ اگر آپ نے انہیں پردہ کروایا تو وہ آپ کی فَقَعَدَتْ عَلَى عَجْزِ الْبَعِيرِ فَعَرَفُوا أَنَّهُ قَدْ تَزَوَّجَهَا فَلَمَّا دَنَوْا مِنَ الْمَدِينَةِ دَفَعَ رَسُولُ ہیوی ہیں اور اور اگر پردہ نہ کروایا تو وہ ام ولد ہیں۔اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدَفَعْنَا قَالَ پھر جب حضور نے سوار ہونے کا ارادہ کیا تو انہیں پردہ فَعَثَرَتِ النَّاقَةُ الْعَصْبَاءُ وَنَدَرَ رَسُولُ الله کروایا اور وہ اونٹ پر آپ کے پیچھے بیٹھیں۔تو لوگوں صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَدَرَتْ فَقَامَ نے سمجھ لیا کہ آپ نے ان سے شادی کی ہے۔پھر فَسَتَرَهَا وَقَدْ أَشْرَفَت النِّسَاءُ فَقُلْنَ أَبْعَدَ جب مدینہ کے قریب ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے اللهُ الْيَهُودِيَّةَ قَالَ قُلْتُ يَا أَبَا حَمْزَةَ أَوقَعَ سواری کو تیز کیا اور ہم نے بھی سواریوں کو تیز کیا۔رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِي راوی کہتے ہیں عضباء اونٹنی کوٹھوکر لگی رسول اللہ ملے وَاللَّهِ لَقَدْ وَقَعَ گر پڑے اور وہ بھی گر گئیں۔رسول اللہ علی