صحیح مسلم (جلد ہفتم)

Page 17 of 297

صحیح مسلم (جلد ہفتم) — Page 17

صحیح مسلم جلد هفتم 17 كتاب النكاح ما هي ابْنُ الزُّبَيْرِ فَجَرَّبْ بِنَفْسِكَ فَوَاللَّهِ لَئِنْ ابن زبیر نے اس سے کہا تو پھر تم خود متعہ کر کے دیکھ فَعَلْتَهَا لَأَرْجُمَنَّكَ بِأَحْجَارِكَ قَالَ ابْنُ لو۔اللہ کی قسم ! اگر تم نے ایسا کیا تو میں تمہیں تمہارے شِهَابٍ فَأَخْبَرَنِي خَالِدُ بْنُ الْمُهَاجِرِ بْنِ ہی پتھروں سے رجم کر ڈالوں گا۔ابن شہاب کہتے سَيْفِ اللَّهِ أَنَّهُ بَيْنَا هُوَ جَالِسٌ عِنْدَ رَجُلٍ ہیں مجھ سے خالد بن مہاجر بن سیف اللہ نے بیان جَاءَهُ رَجُلٌ فَاسْتَفْتَاهُ فِي الْمُتْعَةِ فَأَمَرَهُ بِهَا کیا۔کہ وہ ایک آدمی کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ان فَقَالَ لَهُ ابْنُ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيُّ مَهْلًا قَالَ کے پاس ایک شخص آیا۔اس نے ان سے متعہ کے وَالله لَقَدْ فُعِلَتْ فِي عَهْدِ إِمَامٍ بارہ میں فتویٰ پوچھا۔انہوں نے اسے اس کی اجازت الْمُتَّقِينَ قَالَ ابْنُ أَبِي عَمْرَةَ إِنَّهَا كَانَتْ دی تو انہیں ابن ابی عمرہ انصاری نے کہا ذرا تو قف رُحْصَةٌ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ لِمَنِ اضْطُرَّ إِلَيْهَا کریں! اس نے کہا یہ کیا بات ہے؟ اللہ کی قسم (متعہ ) كَالْمَيِّنَةِ وَالدَّمِ وَلَحْمِ الْخِنْزِيرِ ثُمَّ أَحْكَمَ امام المتقین کے زمانہ میں کیا گیا تھا۔ابن ابی عمرہ نے اللَّهُ الدِّينَ وَنَهَى عَنْهَا قَالَ ابْنُ شِهَابٍ کہا اسلام کے ابتدائی زمانہ میں متعہ کی اجازت وَأَخْبَرَنِي رَبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ أَنْ أَبَاهُ اس شخص کے لئے تھی جو اس کے لئے اضطرار کی قَالَ قَدْ كُنْتُ اسْتَمْتَعْتُ فِي عَهْدِ رَسُولِ حالت میں ہو۔مردار، خون اور سور کے گوشت الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي ) کی اضطراری رخصت کی طرح ) پھر اللہ تعالیٰ نے عَامَرَ بُرْدَيْنِ أَحْمَرَيْنِ ثُمَّ نَهَانَا رَسُولُ اللہ دین کو محکم کیا اور اس سے منع فرما دیا۔صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُتْعَةِ قَالَ ابْنُ ایک اور روایت میں ہے کہ ربیع بن سبرہ چھنی بیان شِهَابٍ وَسَمِعْتُ رَبِيعَ بْنَ سَبْرَةً يُحَدِّثُ کرتے ہیں کہ ان کے والد نے بتایا کہ میں نے ذَلِكَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَأَنَا جَالِسٌ رسول الله عملے کے زمانہ میں بنی عامر کی ایک عورت سے دوسرخ چادروں کے عوض متعہ کیا تھا۔پھر رسول اللہ علیہ نے متعہ سے منع فرما دیا۔[3429] ابن شہاب کہتے ہیں میں نے ربیع بن سبرہ کو یہ بات عمر بن عبد العزیز سے کرتے سنا اور میں بیٹھا ہوا تھا۔