صحیح مسلم (جلد ہفتم) — Page 229
مَعَ حیح مسلم جلد هفتم 229 كتاب اللعان وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرِ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ ایک شخص آیا اور کہا اگر کوئی شخص اپنی عورت کے پاس الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ کسی شخص کو پائے اور وہ اس بات کو بیان کرے تو تم إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ إِنَّا لوگ اسے کوڑے مارو گے یا اگر وہ قتل کرے تو تم لَيْلَةَ الْجُمُعَة فِي الْمَسْجِدِ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ اسے قتل کر دو گے اور اگر وہ خاموش رہے تو غصہ کی الْأَنْصَارِ فَقَالَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ حالت میں خاموش رہے گا۔اللہ کی قسم ! میں اس بارہ رَجُلًا فَتَكَلَّمَ جَلَدَتُمُوهُ أَوْ قَتَلَ قَتَلْتُمُوهُ وَإِنْ میں ضرور رسول اللہ ﷺ سے پوچھوں گا۔جب اگلا سَكَتَ سَكَتَ عَلَى غَيْظَ وَالله لَأَسْأَلَنَّ عَنْهُ دن ہوا تو وہ رسول اللہ علیہ کے پاس آیا اور آپ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا سے پوچھا، اس نے کہا اگر کوئی اپنی بیوی کے پاس کسی كَانَ مِنَ الْغَدِ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ شخص کو پائے اور وہ بات کو بیان کرے تو آپ اسے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا وَجَدَ کوڑے ماریں گے یا وہ قتل کرے تو آپ اسے قتل امْرَأَتِهِ رَجُلًا فَتَكَلَّمَ جَلَدَتُمُوهُ أَوْ قَتَلَ کریں گے۔یا خاموش رہے تو غصہ کی حالت میں قَتَلْتُمُوهُ أَوْ سَكَتَ سَكَتَ عَلَى غَيْظِ فَقَالَ خاموش رہے گا۔آپ نے کہا اے اللہ ( مجھ اللَّهُمَّ افْتَحْ وَجَعَلَ يَدْعُو فَنَزَلَتْ آيَةُ اللَّعَانِ معاملہ کھول دے اور آپ دعا کرنے لگے تو آیت وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ لعان نازل ہوئی وَالَّذِينَ يَرْمُونَ اَزْوَاجَهُمْ وَلَمُ شهَدَاءُ إِلَّا أَنْفُسُهُمْ هَذِهِ الْآيَاتُ فَابْتُلِيَ به يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلَّا أَنْفُسُهُم - ترجمہ: اور ده ذَلِكَ الرَّجُلُ مِنْ بَيْنِ النَّاسِ فَجَاءَ هُوَ لوگ جو اپنی بیویوں پر تہمت لگاتے ہیں اور ان کے وَامْرَأَتُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ پاس اپنی ذات کے سوا اور کوئی گواہ نہ ہو تو۔* اور وَسَلَّمَ فَتَلَاعَنَا فَشَهِدَ الرَّجُلُ أَرْبَعَ سب لوگوں میں یہی شخص اس آزمائش میں ڈالا گیا۔وہ شَهَادَاتِ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ ثُمَّ لَعَنَ اور اس کی بیوی رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور الْخَامِسَةُ أَنْ لَعْنَةَ اللَّه عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ ان دونوں نے لعان کیا۔مرد نے اللہ تعالیٰ کی چار الْكَاذِبِينَ فَذَهَبَتْ لَتَلْعَنَ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ قسمیں کھا ئیں کہ وہ سچا ہے اور پھر اس نے پانچویں کھائیں اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَهُ فَأَبَتْ فَلَعَنَتْ بار لعنت کی کہ اس پر اللہ لعنت کرے اگر وہ جھوٹا ہو۔( النور : 7 )