صحیح مسلم (جلد ہفتم)

Page 13 of 297

صحیح مسلم (جلد ہفتم) — Page 13

صحیح مسلم جلد هفتم 13 كتاب النكاح حَدِيثِ بِشَرِ وَزَادَ قَالَتْ وَهَلْ يَصْلُحُ ذَاكَ اس عورت نے کہا کیا یہ درست ہے؟ اور اس روایت وَفِيهِ قَالَ إِنَّ بُرْدَ هَذَا خَلَقَ مَعٌ میں یہ بھی ہے کہ اس ( دوسرے شخص ) نے کہا تھا کہ اس کی چادر پرانی بوسیدہ ہے۔[3421,3420] 2488{21} حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بن 2488 ربیع بن سبرہ جہنی اپنے والد سے روایت نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے۔حَدَّثَنِي الرَّبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ أَنْ أَبَاهُ آپؐ نے فرمایا اے لوگو! میں نے تمہیں عورتوں حَدَّثَهُ أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الله سے متعہ کرنے کی اجازت دی تھی اور اب اللہ تعالیٰ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي قَدْ نے اسے قیامت تک حرام قرار دے دیا ہے۔پس كُنتُ أَذِنْتُ لَكُمْ فِي الاسْتِمْتَاعِ مِنَ النِّسَاءِ جس کسی کے پاس ان میں سے کوئی عورت ہو تو وہ وَإِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ ذَلِكَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ فَمَنْ اس کی راہ چھوڑ دے اور جو کچھ تم اُسے دے چکے ہو كَانَ عِنْدَهُ مِنْهُنَّ شَيْءٍ فَلْيُحَلِّ سَبيلَهُ وَلَا اس میں سے کچھ واپس نہ لو۔تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا و حَدَّثَنَا أَبُو ایک اور روایت میں ( أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ﷺ کی بجائے ) رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ قَائِمًا عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْبَابِ وَهُوَيَقُولُ کے الفاظ ہیں۔رَأَيْتُ رَسُولَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یعنی میں نے رسول اللہ ﷺ کو کعبہ کے ) رکن قَائِمًا بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْبَابِ وَهُوَ يَقُولُ بِمثْل اور دروازہ کے درمیان کھڑے ہوئے دیکھا اور حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ [3423,3422] آپ فرما رہے تھے۔باقی روایت پہلی روایت کی طرح ہے۔2488: اطراف مسلم كتاب النكاح باب ندب من رأى امرأة فوقعت في نفسه۔۔۔2486 ، 2487 ، 2489 ، 2490 ، 2491 2495 2494۔2493۔2492 تخریج نسائی کتاب النکاح تحريم المتعة 3368 أبو داود كتاب النكاح باب فى نكاح المتعة 2072 ، 2073 ابن ماجه كتاب النكاح باب النهي عن نكاح المتعة 1962 یہ روایت بخاری کی روایت سے مختلف ہے جہاں خیبر کے موقعہ پر متعہ کی قطعی حرمت کا ذکر ہے۔