صحیح مسلم (جلد ہفتم)

Page 221 of 297

صحیح مسلم (جلد ہفتم) — Page 221

حیح مسلم جلد هفتم 221 كتاب اللعان عُوَيْمِرُ فَقَالَ يَا عَاصِمُ مَاذَا قَالَ لَكَ رَسُولُ عاصم ! رسول اللہ ﷺ نے تمہیں کیا فرمایا؟ عاصم نے اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَاصِمٌ عویمر سے کہا تم میرے پاس کوئی بھلائی نہیں لائے۔لِعُوَيْمِرٍ لَمْ تَأْتِنِي بِخَيْرِ قَدْ كَرِهَ رَسُولُ الله رسول اللہ ﷺ نے اس سوال کو جو میں نے آپ سے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْأَلَةَ الَّتِي سَأَلْتُهُ پوچھا نا پسند فرمایا ہے۔عویمر نے کہا اللہ کی قسم! میں عَنْهَا قَالَ عُوَيْمِ وَاللَّهِ لَا أَنْتَهِي حَتَّى أَسْأَلَهُ نہیں رکوں گا یہانتک کہ آپ سے اس کے بارہ میں عَنْهَا فَأَقْبَلَ عُوَيْمِرٌ حَتَّى أَتَى رَسُولَ الله پوچھ نہ لوں۔پس عویمر آئے اور لوگوں کے درمیان صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَطَ النَّاسِ فَقَالَ يَا رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچے اور انہوں نے کہا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَته يا رسول اللہ! آپ اس شخص کے بارہ میں فرمائیے جو رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ فَقَالَ اپنی عورت کے پاس کسی اور شخص کو پاتا ہے کیا وہ اسے قتل کر دے؟ اور پھر آپ لوگ اسے قتل کر دیں یا وہ کیا کرے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تیرے اور تیری بیوی کے بارہ میں (حکم) نازل ہوا ہے جاؤ اور اسے سَهْلٌ فَتَلَاعَنَا وَأَنَا مَعَ النَّاسِ عِنْدَ رَسُولِ لے آؤ۔سہل کہتے ہیں پھر ان دونوں نے لعان کیا اور الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا فَرَغَا قَالَ میں لوگوں کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے پاس تھا۔رَسُولُ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَزَلَ فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ فَاذْهَبْ فَأْتِ بِهَا قَالَ عُوَيْمَرٌ كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ پس جب دونوں فارغ ہوئے۔عویمر نے کہا أَمْسَكْتُهَا فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ يا رسول اللہ ! اگر میں اسے روک رکھوں تو گویا رَسُولُ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ابْنُ میں نے اس پر جھوٹ بولا۔پھر قبل اس کے کہ شهَابٍ فَكَانَتْ سُنَّةَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ (2) و رسول اللہ نے اسے حکم دیں اس نے اسے تین حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ طلاقیں دے دیں۔ابن شہاب کہتے ہیں تو پھر دو : أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي لعان کرنے والوں کے لئے سنت ہو گئی۔سَهْلُ بْنُ سَعْدِ الْأَنْصَارِيُّ أَنْ عُوَيْمِرًا ایک اور روایت میں (جاء کی بجائے) اسی کے الْأَنْصَارِيَّ مِنْ بَنِي الْعَجْلَانِ أَتَى عَاصِمَ بْنَ الفاظ ہیں اور ( الْعَجْلَانِی کی بجائے) مِنْ بَنِي عَدِيٍّ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكَ الْعَجْلَان کے الفاظ ہیں۔باقی روایت سابقہ روایت