صحیح مسلم (جلد ہفتم) — Page 6
صحیح مسلم جلد هفتم 6 كتاب النكاح [2]2: بَاب : نَدْبُ مَنْ رَأَى امْرَأَةً فَوَقَعَتْ فِي نَفْسِهِ إِلَى أَنْ يَأْتِيَ امْرَأَتَهُ أَوْ جَارِيَتَهُ فَيُوَاقِعَهَا اس بات کا مستحب ہونا کہ کوئی شخص کسی عورت کو دیکھے اور اس کے دل میں یہ خیال آجائے کہ وہ اپنی بیوی یا اپنی لونڈی کے پاس جائے اور اس سے ازدواجی تعلقات قائم کرے 2477{9} حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا 2477 حضرت جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ عَبْدُ الْأَعْلَى حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ الله نے ایک عورت کو دیکھا۔آپ اپنی بیوی حضرت عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ زینب کے پاس آئے اور وہ اپنے چھڑے کو مل رہی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى امْرَأَةً فَأَتَی تھیں۔آپ نے اپنی ضرورت پوری کی۔پھر اپنے امْرَأَتَهُ زَيْنَبَ وَهِيَ تَمْعَسُ مَنِينَةٌ لَهَا فَقَضَى صحابہؓ کے پاس آئے اور فرمایا یقیناً عورت بہکانے حَاجَتَهُ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ إِنَّ والے کی صورت میں آتی ہے اور بہکانے والے کی الْمَرْأَةَ تُقْبِلُ فِي صُورَةٍ شَيْطَانٍ وَتُدْبِرُ في صورت میں واپس جاتی ہے۔اس لئے جب تم میں صُورَةٍ شَيْطَانٍ فَإِذَا أَبْصَرَ أَحَدُكُمُ امْرَأَةً سے کوئی کسی عورت کو دیکھے تو وہ اپنی بیوی کے پاس فَلْيَأْت أَهْلَهُ فَإِنَّ ذَلِكَ يَرُدُّ مَا فِي نَفْسه يَرُدُّ مَا فِي نَفْسِهِ آئے۔یہ بات اس چیز کوزائل کر دے گی جو اس کے حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْب حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ دل میں ہے۔بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ أَبِي ایک اور روایت میں ( عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ اللہ کی بجائے) عَنْ جَابِرِ بْن عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ الْعَالِيَة حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْن عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى النَّبِيَّ ﷺ کے الفاظ ہیں اور اس روایت میں تُدْبِرُ امْرَأَةً فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَأَتَى امْرَأَتَهُ فِي صُورَةٍ شَيْطَانِ کے الفاظ نہیں ہیں۔2477: اطراف مسلم کتاب النكاح باب ندب من رأى امرأة فوقعت في نفسه۔۔۔2478 تخريج: ابوداود كتاب النكاح باب مايؤمر به من غض البصر 2150 ترمذی كتاب الرضاع باب ماجاء في الرجل يرى المرأة تعجبه 1158