صحیح مسلم (جلد ہفتم) — Page 128
حیح مسلم جلد هفتم 128 كتاب الرضاع مُضْطَجَعَانِ فَقَالَ إِنَّ هَذِهِ الْأَقْدَامَ بَعْضُهَا اور آپ نے یہ بات حضرت عائشہ کو بتائی۔مِنْ بَعْضٍ فَسُرَّ بِذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ ایک اور روایت میں یہ اضافہ ہے کہ مجز ز ایک قیافہ وَسَلَّمَ وَأَعْجَبَهُ وَأَخْبَرَ بهِ عَائِشَةً و حَدَّثَنِي شناس تھا۔حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ وَابْنُ جُرَيْجٍ كُلُّهُمْ عَن الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ بِمَعْنَى حديثهمْ وَزَادَ فِي حَدِيثِ يُونُسَ وَكَانَ مجوز قائفا [3620,3619] [12]36: بَاب : قَدْرُ مَا تَسْتَحِقُهُ الْبِكْرُ وَالثَّيِّبُ مِنْ إِقَامَةِ الزَّوْحِ عِنْدَهَا عُقْبِ الزَّفَاف باب: کنواری اور بیوہ شادی کے بعد خاوند کے پاس کتنے قیام کی مستحق ہے 2636{41} حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ 2636 حضرت ام سلمہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ کے وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ نے جب ان سے شادی کی تو ان کے پاس تین دن وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قیام فرمایا اور فرمایا تمہیں تمہارے خاندان کے سَعِيدٍ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ سامنے کوئی شرمساری نہیں ہوگی۔اگر تم چاہتی ہو تو عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْن أَبي بَكْرِ بْن عَبْد تمہارے پاس ایک ہفتہ ٹھہر سکتا ہوں لیکن اگر میں الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ تمہارے پاس ہفتہ ٹھہرا تو اپنی ( باقی ) بیویوں کے عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ پاس بھی ہفتہ شہروں گا۔وَسَلَّمَ لَمَّا تَزَوَّجَ أُمَّ سَلَمَةَ أَقَامَ عِنْدَهَا 2636 : اطراف مسلم کتاب الرضاع باب قدر ما تستحقه البكر والثيب من اقامة الزوج عندها عقب الزفاف 2637 ، 2638 ، 2639 تخریج: ابوداود کتاب النکاح باب في المقام عند البكر 2122 ، 2123 ، 2124 ابن ماجه كتاب النكاح باب الاقامة على البكر والثيب 1916 ، 1917