صحیح مسلم (جلد ششم) — Page 364
364 كتاب الحج مَسَاجِدَ مَسْجِد الْكَعْبَةِ وَمَسْجِدي وَمَسْجِد إيلياء [3386] [96]96: بَابٍ: بَيَانُ أَنَّ الْمَسْجِدَ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى هُوَ مَسْجِدُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ باب : اس بات کا بیان کہ وہ مسجد جس کی بنیاد تقومی پر رکھی گئی ہے ن ماہ کی مسجد ہے جو مدینہ میں ہے 2463{514} حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ 2463: ابوسلمہ بن عبد الرحمان بیان کرتے ہیں کہ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدِ عَنْ حُمَيْد الْخَرَّاط عبد الرحمان بن ابوسعید الخدری میرے پاس سے قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَن قَالَ گزرے۔وہ کہتے ہیں میں نے ان سے کہا آپ 0 مَرَّ بِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي سَعِيدِ الْخُدْرِيِّ نے اپنے والد کو اس مسجد کے بارہ میں کیا ذکر کرتے قَالَ قُلْتُ لَهُ كَيْفَ سَمِعْتَ أَبَاكَ يَذْكُرُ في سنا ہے جس کی بنیاد تقوی پر رکھی گئی ہے۔انہوں نے الْمَسْجِدِ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى قَالَ کہا کہ میرے والد کہتے تھے کہ میں رسول اللہ علی قَالَ أَبِي دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی کی خدمت میں آپ کی ازواج مطہرات میں سے کسی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْت بَعْضٍ نِسَائہ کے گھر حاضر ہوا۔میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! دو فَقُلْتُ يَا رَسُولَ الله أَيُّ الْمَسْجِدَيْنِ الَّذي مسجدوں میں سے وہ کونسی مسجد ہے جس کی بنیاد تقوی أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى قَالَ فَأَخَذَ كَفَّا مِنْ پر رکھی گئی ہے؟ وہ کہتے ہیں آپ نے کنکریوں کی مٹھی حَصْبَاءَ فَضَرَبَ بِهِ الْأَرْضَ ثُمَّ قَالَ هُوَ بھری اور پھر اسے زمین پر ڈال دیا پھر مدینہ کی مسجد مَسْجِدُكُمْ هَذَا لِمَسْجِدِ الْمَدِينَةِ قَالَ ( نبوی) کے بارہ میں فرمایا وہ تمہاری یہ مسجد ہے۔فَقُلْتُ أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ أَبَاكَ هَكَذَا راوی کہتے ہیں میں نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ میں مناس تخریج بخاری کتاب فضل الصلاة في مسجد مكة والمدينة باب فضل الصلاة في مسجد مكة والمدينة 1189 نسائي المساجد ما تشد الرحال اليه من المساجد 700 ابو داود كتاب المناسك فى اتيان المدينة 2033 ابن ماجه كتاب اقامة الصلاة والسنة فيها باب ماجاء في الصلاة في مسجد بيت مقدس 1409 ، 1410 2463 : تخريج : ترمذى تفسير القرآن باب ومن سورة التوبة 3099 نسائى كتاب المساجد ذكر المسجد أسس على التقوى 697