صحیح مسلم (جلد ششم) — Page 323
323 كتاب الحج 831831 : بَاب النَّهْيِ عَنْ حَمْلِ السَّلَاحِ بِمَكَّةَ بِلَا حَاجَةٍ بلاضرورت مکہ میں ہتھیار اٹھائے پھرنے کی ممانعت کا بیان 44732402) حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ :2402 حضرت جابر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں حَدَّثَنَا ابْنُ أَغْيَنَ حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ عَنْ أَبِي میں نے نبی ﷺ کو فرماتے سنا تم میں سے کسی کے الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى لئے جائز نہیں کہ وہ مکہ میں ہتھیار اٹھا کر چلے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَحِلُّ لِأَحَدِكُمْ أَنْ پھرے۔يَحْمِلَ بِمَكَّةَ السَّلَاحَ [3307] [84]84: بَابِ : جَوَازُ دُخُولِ مَكَّةَ بِغَيْرِ إِحْرَامٍ باب : مکہ میں احرام کے بغیر داخل ہونے کا جواز 2403{450} حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ 2403 : حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ الْقَعْنَبِيُّ وَيَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيد في فتح کے سال مکہ میں داخل ہوئے۔اور آپ نبی أَمَّا الْقَعْنَبِيُّ فَقَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ کے سر پر خود تھا جب آپ نے اسے (خو دکو ) اُتارا تو أَنَسٍ وَأَمَّا قُتَيْبَةُ فَقَالَ حَدَّثَنَا مَالِكَ وَقَالَ ایک شخص آپ کے پاس آیا اور کہا ابن خطل کعبہ کے يَحْيَى وَاللَّفْظُ لَهُ قُلْتُ لِمَالِكِ أَحَدَّثَكَ ابْنُ پردوں سے لٹکا ہوا ہے۔آپ نے فرمایا اسے قتل شِهَابٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى کردو اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ 2 2403 : اطراف مسلم کتاب الحج باب جواز دخول مكة بغير احرام 2404، 2405 تخریج: بخاری کتاب جزاء الصيد باب دخول الحرم ومكة بغير احرام 1846 كتاب الجهاد والسير باب قتل الاسير وقتل الصبر 3044 كتاب المغازی باب این ركز النبی الله الراية يوم الفتح 4286 كتاب اللباس باب المغفر 5808 ترمذى كتاب الجهاد باب ما جاء في المغفر 1693 نسائى مناسك الحج دخول مكة بغير احرام 2867 ، 2868 ابو داود كتاب الجهاد باب قتل الاسير ولا يعرض عليه الاسلام 2685 ابن ماجه كتاب الجهاد باب السلاح 2805 1 : معلوم ہوتا ہے کہ حضور یہ جب مکہ داخل ہونے سے پہلے پڑاؤ سے جس کا نام غالبا عسفان تھا اور جہاں آپ نے دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ رات کو قیام فرمایا تھا راو نہ ہوئے تو حضور نے سیاہ عمامہ پہنا ہوا تھا جب مکہ میں اندر آئے تو قرآنی حکم خُذُوا حِذْرَكُمْ کے مطابق از راه احتیاط خود پہن لیا۔واللہ اعلم 2: ابن خطل ایک اشتہاری مجرم تھا جو مکہ کے ہتھیار ڈالنے کے باوجود surrender کرنے کے لئے تیار نہیں تھا۔معلوم ہوتا ہے کہ اس کا ارادہ تھا کہ کعبہ کے پردوں سے لٹک کر اپنی قرار واقعی سزا سے بچ جائے اور پھر واؤ لگا کر نکل جائے اور اپنی شرارتیں جاری رکھے۔