صحیح مسلم (جلد ششم)

Page 322 of 399

صحیح مسلم (جلد ششم) — Page 322

322 كتاب الحج فَأَخبر بذلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ خطبہ دیا اور فرمایا یقیناً اللہ عزوجل نے مکہ سے وَسَلَّمَ فَرَكِبَ رَاحِلَتَهُ فَخَطَبَ فَقَالَ إِنَّ اصحاب الفیل کو روک دیا تھا اور اپنے رسول اور اللَّهَ عَزَّ وَجَلٌ حَبَسَ عَنْ مَكَّةَ الْفِيلَ وَسَلَّطَ مؤمنوں کو اس پر غلبہ عطا فرمایا۔سنو! مجھ سے پہلے کسی عَلَيْهَا رَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ أَلَا وَإِنَّهَا لَمْ تَحلَّ کے لئے اس کی حرمت نہیں اٹھائی گئی اور نہ اس کی لأَحَد قَبْلِي وَلَنْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ بَعْدِي أَلَا وَإِنَّهَا حرمت میرے بعد کسی کے لئے اٹھائی جائے گی۔أَحلَّتْ لي سَاعَةً مِنْ النَّهَارِ أَلَا وَإِنَّهَا سنو! میرے لئے بھی دن کی ایک گھڑی اس کی سَاعَتِي هَذه حَرَامٌ لَا يُخْبَطُ شَوْكُهَا وَلَا حرمت اٹھائی گی۔سنو! یقینا میری اس گھڑی میں پھر يُعْضَدُ شَجَرُهَا وَلَا يَلْتَقطُ سَاقطَتَهَا إِلَّا اس کی حرمت قائم ہے۔اس کے کانٹے دار درخت نہ مُنشَدٌ وَمَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ جھاڑے جائیں گے اور نہ اس کے درخت کاٹے إِمَّا أَنْ يُعْطَى يَعْنِي الدِّيَةَ وَإِمَّا أَنْ يُقَادَ أَهْلُ جائیں گے۔نہ اس کی گمشدہ چیز کوئی اٹھائے گا الْقَتِيلِ قَالَ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ يُقَالُ سوائے اعلان کرنے والے کے۔اور جس کا کوئی قتل لَهُ أَبُو شَاهِ فَقَالَ اكْتُبْ لِي يَا رَسُولَ الله کیا جائے اسے دو باتوں میں سے بہتر (اختیار کرنا) فَقَالَ اكْتُبُوا لِأَبِي شَاهِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ ہے۔یا تو اسے دیت دی جائے اور یا مقتول کے اہل قُرَيْشٍ إِلَّا الْإِذْخِرَ فَإِنَّا نَجْعَلُهُ فِي بُيُوتِنَا کو بدلہ دلایا جائے۔وَقُبُورِنَا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ راوی کہتے ہیں اہل یمن میں سے ایک شخص آیا جسے وَسَلَّمَ إِلَّا الْإِذْخِرَ [3306] ابوشاہ کہا جاتا تھا اس نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ( یہ ) مجھے لکھ دیں۔آپ نے فرمایا ابوشاہ کے لئے لکھ دو۔قریش میں سے ایک شخص نے کہا سوائے اذخر کے کیونکہ ہم اسے اپنے گھروں اور اپنی قبروں میں استعمال کرتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (ہاں) سوائے اذخر کے۔