صحیح مسلم (جلد ششم) — Page 20
20 20 كتاب الحج صلى الله الْيَمَانِيَيْنِ وَأَمَّا النَّعَالُ السَّبْتِيَّةُ فَإِنِّي رَأَيْتُ ہے۔اس پر حضرت عبد اللہ بن عمر نے کہا جہاں تک رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُ چار کونوں کا تعلق ہے تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو النَّعَالَ الَّتِي لَيْسَ فِيهَا شَعَرٌ وَيَتَوَضَّأُ فِيهَا دو یمنی ( کونوں ) کو چھوتے دیکھا ہے اور جہاں تک فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَلْبَسَهَا وَأَمَّا الصُّفْرَةُ فَإِنِّي سيتى جوتوں کا تعلق ہے تو میں نے رسول اللہ علی سبتی رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کو ایسے جوتے پہنے دیکھا ہے جس پر بال نہیں ہوتے يَصْبُعُ بِهَا فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَصْبُعَ بِهَا وَأَمَّا تھے اور آپ اس میں وضوء کرتے تھے لہذا میں پسند الْإِهْلَالُ فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ کرتا ہوں کہ میں یہ پہنوں باقی رہا زرد رنگ تو میں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلَّ حَتَّى تَنْبَعثَ بِهِ رَاحِلَتُهُ نے رسول الله کو اس سے رنگتے ہوئے دیکھا ﷺ {26} حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ہے۔سو میں پسند کرتا ہوں کہ میں اس سے رنگوں۔رہا حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ عَنِ ابْنِ لبیک کہنا تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو لبیک کہتے نہیں قُسَيْطِ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ قَالَ حَجَجْتُ دیکھا یہانتک کہ آپ کی سواری کھڑی ہو جاتی۔عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ ایک اور روایت میں ہے عبید بن جریج کہتے ہیں کہ اللهُ عَنْهُمَا بَيْنَ حَجٌ وَعُمْرَة ثنتي عشرة میں نے حضرت عبد اللہ بن عمر بن خطاب کے ساتھ مَرَّةً فَقُلْتُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَقَدْ رَأَيْتُ حج کیا حج اور عمرہ ملا کر بارہ مرتبہ۔میں نے کہا اے مِنْكَ أَرْبَعَ خِصَالٍ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِهَذَا ابو عبد الرحمان ! میں نے آپ میں چار باتیں دیکھی الْمَعْنَى إِلَّا فِي قصَّةِ الْإِهْلَالِ فَإِنَّهُ خَالَفَ ہیں اور آگے اس مفہوم کی روایت بیان کی۔سوائے رِوَايَةَ الْمَقْبُرِيِّ فَذَكَرَهُ بِمَعْنَى سِوَى ذِكْرِهِ لبیک کہنے کی بات کے کہ وہ مقبری کی روایت کے خلاف ہے۔إِيَّاهُ [2819,2818] 2022 {27} وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ 2022 حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ عَبَيْدِ اللَّهِ عَنْ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ اپنا پاؤں رکاب نَافِعِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ میں رکھتے اور آپ کی سواری آپ کو لے کر کھڑی كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ہو جاتی تو آپ ذوالحلیفہ سے تلبیہ کہنا شروع کرتے۔2022: اطراف مسلم کتاب الحج باب امراهل المدينه بالاحرام من عند مسجد ذي الحليفه 2019 ، 2020 باب الاهلال من حيث تنبعث الراحلة 2021 ، 2023 ، 2024 =