صحیح مسلم (جلد ششم) — Page 220
220 كتاب الحج [19] 19 : بَاب اسْتِحْبَابِ تَقْدِيمِ دَفْعِ الصَّعَفَةِ مِنَ النِّسَاءِ وَغَيْرِهِنَّ مِنْ مُزْدَلفَةَ إِلَى مِنّى فِي أَوَاخِرِ اللَّيْلِ قَبْلَ زَحْمَةِ النَّاسِ وَاسْتِحْبَابِ المُكث لغيرهم حَتَّى يُصَلُّوا الصُّبْحَ بِمُزْدَلفَةً لِغَيْرِهِمْ عورتوں وغیرہ میں سے کمزوروں کا رات کے آخری حصہ میں لوگوں کا ہجوم ہونے سے پہلے مزدلفہ سے مینی روانہ ہونے کے مستحب ہونے کا بیان اور ان کے علاوہ دوسروں کا مزدلفہ میں ٹھہرے رہنا یہاں تک کہ صبح کی نماز پڑھ لیں کے استحباب کا بیان 2257{293) وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ 2257: حضرت عائشہ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا أَفْلَحَ يَعْنِي ابْنَ حُمَيْدٍ عَنْ که مزدلفہ کی رات حضرت سودہ نے رسول اللہ ہے الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ اسْتَأْذَنَتْ سے اجازت چاہی کہ وہ آپ سے پہلے اور لوگوں کے سَوْدَةُ رَسُولَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ہجوم سے پہلے پہلے واپس (مٹی ) روانہ ہو جائیں اور لَيْلَةَ الْمُرْدَلفَة تَدْفَعُ قَبْلَهُ وَقَبْلَ حَطْمَة وہ بھاری بھر کم خاتون تھیں۔النَّاسِ وَكَانَتْ امْرَأَةَ ثَبِطَةٌ يَقُولُ الْقَاسِمُ قاسم کہتے ہیں الشبطہ کے معنے ہیں (الثقيلة) وَالشَّطَةُ الثَّقِيلَةُ قَالَ فَأَذِنَ لَهَا فَخَرَجَتْ بھاری بھر کم۔وہ کہتے ہیں (حضرت عائشہ نے فرمایا ) قَبْلَ دَفْعِهِ وَحَبَسَنَا حَتَّى أَصْبَحْنَا فَدَفَعْنَا آپ نے انہیں اجازت دے دی۔وہ آپ کی روانگی بدفعه وَلَأَنْ أَكُونَ اسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ الله سے پہلے چلی گئیں اور ہمیں آپ نے روک لیا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا اسْتَأْذَنَتْهُ سَوْدَةً یہانتک کہ صبح ہوگئی۔پھر ہم رسول اللہ ﷺ کے فَأَكُونَ أَدْفَعْ بِإِذْنِهِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ مَفْرُوح ساتھ روانہ ہوئے۔به [3118] اگر میں نے (بھی) رسول اللہ ﷺ سے اجازت 2257 : اطراف : مسلم کتاب الحج باب استحباب زيادة التغليس بصلاة الصبح۔۔۔2258 ، 2259 ، 2260، 2261،2261 تخریج بخارى كتاب الحج باب من قدم ضعفة أهلة بليل فيقفون بالمزدلفة۔۔۔1680، 1881 نسائی مناسک الحج باب الرخصة للنساء في الافاضة من جمع قبل الصبح 3037 باب الرخصة للضعفة ان يصلوا يوم النحر الصبح بمنى 3049 ابن ماجه کتاب المناسک باب من تقدم من جمع الى منى ) لرمي الجمار 3027