صحیح مسلم (جلد ششم) — Page 174
174 كتاب الحج تَحُبِّي مَعَنَا قَالَتْ لَمْ يَكُنْ لَنَا إِلَّا نَاضِحَانِ دیا ہمارے پاس پانی لانے والے دو ہی اونٹ فَحَجَّ أَبُو وَلَدِهَا وَابْنُهَا عَلَى نَاضِحِ وَتَرَكَ ہیں۔ایک اونٹ پر باپ بیٹا حج پر گئے اور دوسرا لَنَا نَاضِحًا تَنْضِحُ عَلَيْهِ قَالَ فَإِذَا جَاءَ ہمارے لئے چھوڑا جس پر ہم پانی لاتے ہیں۔رَمَضَانُ فَاعْتَمِرِي فَإِنَّ عُمْرَةً فِيهِ تَعْدِلُ آپ نے فرمایا جب رمضان آئے تو تم عمرہ کر لینا کیونکہ اس مہینہ میں عمرہ حج کے برابر ہے۔حَجَّةً [3038] 2188 {222} وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ :2188 حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ صلى الله الصَّبيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا نبی ﷺ نے انصار کی ایک عورت سے جسے ام سنان حَبِيبُ الْمُعَلِّمُ عَنْ عَطَاء عَنِ ابْنِ عَبَّاس أَنْ کہا جاتا تھا فرمایا تمہیں ہمارے ساتھ حج کرنے سے النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِامْرَأَةَ مِنَ کس بات نے روکا۔اس نے کہا اس کے خاوند الْأَنْصَارِيُقَالُ لَهَا أُمُّ سِنَانِ مَا مَنَعَكِ أَنْ تَكُونِي ابو فلاں کے دو پانی لانے والے اونٹ تھے۔ان میں جَجْت مَعَنَا قَالَتْ نَاضِحَانِ كَانَا لِأَبِي فُلَانِ سے ایک پر وہ اور اس کا ایک بیٹا حج پر گئے اور زَوْجِهَا حَجَّ هُوَ وَابْنُهُ عَلَى أَحَدِهِمَا وَكَانَ دوسرے پر ہمارا خادم پانی لاتا ہے۔آپ نے فرمایا الْآخَرُ يَسْقِي عَلَيْهِ غُلَامُنَا قَالَ فَعُمْرَةٌ فِي رمضان میں عمرہ کرنا حج کے برابر ہے۔یا فرمایا رَمَضَانَ تَقْضِي حَجَّةً أَوْ حَجَّةً مَعِي [3039] میرے ساتھ حج کرنے کے برابر ہے۔2188 : اطراف مسلم کتاب الحج باب فضل العمرة في رمضان 2187 تخریج بخاری کتاب الحج باب عمرة في رمضان 1782 باب حج النساء 1863 ابوداود كتاب المناسك باب العمرة 1988، 1989 ، 1990 ابن ماجه كتاب المناسك باب العمرة في رمضان ،2991، 2992 ، 2993 ، 2994 ، 2995