صحیح مسلم (جلد ششم) — Page 133
133 كتاب الحج عُمَارَةَ بْنِ الہ عُمَيْرٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي مُوسَى وہ نہیں جانتے جو امیر المؤمنین نے قربانی کے بارہ عَنْ أَبِي مُوسَى أَنَّهُ كَانَ يُفْتِي بِالْمُتْعَةِ فَقَالَ میں بعد میں ارشاد فرمایا ہے۔پھر وہ بعد میں اُن لَهُ رَجُلٌ رُوَيْدَكَ بِبَعْضٍ فُتْيَاكَ فَإِنَّكَ لَا ( امير المؤمنين ) سے ملے اور اُن سے پوچھا۔حضرت تَدْرِي مَا أَحْدَثَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي النُّسُكِ عمرؓ نے فرمایا مجھے پتہ ہے کہ نبی ﷺ اور صحابہ نے بَعْدُ حَتَّى لَقِيَهُ بَعْدُ فَسَأَلَهُ فَقَالَ عُمَرُ قَدْ ایسا کیا ہے۔لیکن میں نے اچھا نہیں سمجھا کہ لوگ پیلو عَلِمْتُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ کے درختوں میں ان کے ساتھ رات گزاریں۔پھر صبح فَعَلَهُ وَأَصْحَابُهُ وَلَكِنْ كَرِهْتُ أَنْ يَظَلُّوا حج پر اس طرح نکلیں کہ ان کے سروں سے پانی ٹپک مُعْرِسِينَ بِهِنَّ فِي الْأَرَاكِ ثُمَّ يَرُوحُونَ فِي رہا ہو۔الْحَجِّ تَقْطُرُ رُءُوسُهُمْ [2961] [23]23: بَاب جَوَازِ التَّمَتُّعِ ( ج ) تمتع کے جواز کا بیان 2132 {158} حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى :2132 : عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں حضرت عثمان حج وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ تمتع سے روکتے تھے اور حضرت علی ایسے حج کرنے کی بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ قَالَ اجازت دیتے تھے۔حضرت عثمان نے حضرت علیؓ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَقِيقٍ كَانَ عُثْمَانُ يَنْهَى عَنِ کو کوئی بات کہی۔پھر حضرت علیؓ نے کہا آپ کو علم ہے الْمُتْعَةِ وَكَانَ عَلِيٌّ يَأْمُرُ بِهَا فَقَالَ عُثْمَانَ کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج تمتع کیا تھا۔لعَلِيِّ كَلِمَةً ثُمَّ قَالَ عَلِيٌّ لَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّا قَدْ حضرت عثمان نے کہا ہاں لیکن ہمیں خوف تھا۔تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُول اللَّه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَجَلْ وَلَكنَّا كُنَّا خَائِفِينَ و 2132: اطراف مسلم کتاب الحج باب جواز التمتع 2133 تخریج: بخاری کتاب الحج باب التمتع والقران والافراد بالحج۔۔۔1563، 1569 نسائى مناسك الحج القرآن 2722 2723 التمتع 2733 ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عثمان کا یہ فقرہ راوی نے مکمل بیان نہیں کیا واللہ اعلم