صحیح مسلم (جلد ششم)

Page 130 of 399

صحیح مسلم (جلد ششم) — Page 130

مسلم جلد ششم 130 كتاب الحج وَسَلَّمَ وَهُوَ مُنِيحٌ بِالْبَطْحَاءِ فَقَالَ لِي لَبَّیک نبی اللہ کے احرام کی طرح احرام۔آپ نے أَحَجَجْتَ فَقُلْتُ نَعَمْ فَقَالَ بِمَ أَهْلَلْتَ قَالَ فرمایا تم نے اچھا کیا۔بیت اللہ اور صفا مروہ کا طواف قُلْتُ لَبَّيْكَ بِإِهْلَالٍ كَاهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى کرو اور احرام کھول دو۔وہ کہتے ہیں میں نے بیت اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَدْ أَحْسَنْتَ طُفْ اللہ اور صفا مروہ کا طواف کیا۔اور پھر میں بنی قیس کی بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَأَحِلَّ قَالَ ایک عورت کے پاس آیا۔اس نے میرے بال صاف فَطُفْتُ بِالْبَيْت وَبالصَّفَا وَالْمَرْوَةَ ثُمَّ أَتَيْتُ کئے۔پھر میں نے حج کا احرام باندھا۔حضرت ابو امْرَأَةً مِنْ بَنِي قَيْسٍ فَفَلَتْ رَأْسِي ثُمَّ أَهْلَلْتُ موسیٰ " کہتے ہیں میں اسی کا فتویٰ لوگوں کو دیتا تھا بالْحَجِّ قَالَ فَكُنْتُ أُفْتِي به النَّاسَ حَتَّى يباشک که حضرت عمر کی خلافت کا زمانہ آیا۔تو ان کو كَانَ فِي خِلَافَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ لَهُ ایک شخص نے کہا اے ابو موسیٰ یا کہا اے عبداللہ بن رَجُلٌ يَا أَبَا مُوسَى أَوْ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ میں ! تم اپنے بعض فتووں میں احتیاط کرو تمہیں نہیں رُوَيْدَكَ بَعْضَ فُتْيَاكَ فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا معلوم کہ امیر المؤمنین نے تمہارے بعد مناسک میں أَحْدَثَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي النُّسُكِ بَعْدَكَ کیا احکامات جاری فرمائے ہیں۔حضرت ابو موسیٰ * فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ كُنَّا أَفْتَيْنَاهُ فُتْيَا نے کہا اے لوگو! جسے ہم نے فتویٰ دیا ہے وہ رُک فَلْيَتَندْ فَإِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَادِمٌ عَلَيْكُمْ فَبِهِ جائے کیونکہ امیر المؤمنین تمہارے پاس آنے والے فَاتَمُوا قَالَ فَقَدِمَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ہیں تم انہیں کی پیروی کرنا۔فَإِنَّ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ إِنْ نَأْخُذْ بِكِتَابِ حضرت ابو موسیٰ" کہتے ہیں پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ الله فَإِنَّ كِتَابَ اللَّهِ يَأْمُرُ بِالسَّمَامِ وَإِنْ نَأْخُذ تشریف لائے۔میں نے ان سے اس بات کا ذکر کیا بِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تو انہوں نے فرمایا۔اگر ہم اللہ کی کتاب کو لیں تو اللہ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ کی کتاب تحمیل ( حج وعمرہ ) کا حکم دیتی ہے اور اگر ہم صلى الله يَحِلَّ حَتَّى بَلَغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ و حَدَّثَنَاه رسول الله صلے کی سنت کو لیں تو رسول اللہ ﷺ نے عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ احرام نہیں کھولا یہانتک کہ قربانی اپنے مقام تک پہنچ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ [2958,2957] گئی۔