صحیح مسلم (جلد ششم) — Page 124
124 كتاب الحج ساتھ آپ تکبیر کہتے تھے (وہ کنکریاں) چھوٹے چھوٹے سنگریزوں جیسی تھیں۔آپ نے وادی کے نشیب سے یہ ( کنکریاں ماریں۔پھر قربانی کرنے کی جگہ تشریف لے گئے۔پھر آپ نے اپنے ہاتھ سے قربانی کے تریسٹھ جانور ذبح کئے۔پھر حضرت علیؓ کے سپرد کیا جو رہ گئے تھے وہ انہوں نے ذبح کئے۔اور آپ نے ان (حضرت علی) کو اپنی قربانی میں شریک کیا تھا۔آپ نے ہر قربانی میں سے ایک حصے کے بارہ میں ارشاد فرمایا اُسے ہنڈیا میں ڈالا گیا، اسے پکایا گیا۔پھر آپ دونوں نے اس کا گوشت کھایا اور اس کا الله شور با پیا۔پھر رسول اللہ علی سوار ہوئے اور بیت اللہ کا طواف افاضہ کیا مکہ میں نماز ظہر پڑھائی۔پھر آپ بنو عبدالمطلب کے پاس آئے جو زمزم پر پانی پلا رہے تھے۔آپ نے فرمایا عبدالمطلب کی اولا د پانی نکالو۔اگر لوگوں کے تمہارے پانی پلانے کی خدمت پر غالب آنے کا خدشہ نہ ہوتا تو میں بھی تم لوگوں کے ساتھ پانی نکالتا۔پھر انہوں نے آپ کو ایک ڈول پیش کیا اور آپ نے اس میں سے پانی پیا۔ایک اور روایت جعفر بن محمد سے مروی ہے وہ کہتے ہیں مجھے میرے والد نے بتایا کہ میں حضرت جابر بن عبد الله کے پاس آیا اور ان سے رسول اللہ ﷺ کے حج کے بارہ میں سوال کیا۔باقی روایت پہلی روایت کی طرح ہے مگر اس روایت میں مزید ہے کہ عربوں کا دستور تھا