صحیح مسلم (جلد ششم) — Page 116
116 كتاب الحج زِرِّي الْأَعْلَى ثُمَّ نَزَعَ زِرِّي الْأَسْفَلَ ثُمَّ تھا۔انہوں نے کہا اے میرے بھتیجے آپ کو خوش بَيْنَ ثَدْيَيَّ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ غُلَامٌ آمدید۔جو چاہو پوچھو تو میں نے اُن سے کچھ باتیں وَضَعَ الله شَابٌ فَقَالَ مَرْحَبًا بِكَ يَا ابْنَ أَخِي سَلْ عَمَّا پوچھیں۔وہ نابینا تھے اور نماز کا وقت ہو گیا۔وہ اپنی شِئْتَ فَسَأَلْتُهُ وَهُوَ أَعْمَى وَحَضَرَ وَقْتُ بنی ہوئی چادر اوڑھ کر کھڑے ہو گئے۔جب بھی وہ الصَّلَاةِ فَقَامَ فِي نِسَاجَةٍ مُلْتَحِفًا بِهَا كُلَّمَا اُسے اپنے کندھوں پر ڈالتے اس کے چھوٹا ہونے کی وَضَعَهَا عَلَى مَنْكِبِهِ رَجَعَ طَرَفَاهَا إِلَيْهِ مِنْ وجہ سے اس کے دونوں کنارے آپ کی طرف لوٹ صِغَرِهَا وَرِدَاؤُهُ إِلَى جَنْبِهِ عَلَى الْمِسْجَبِ آتے اور ان کی (بڑی) چادر اُن کے پہلو میں کھونٹی فَصَلَّى بِنَا فَقُلْتُ أَخْبِرْنِي عَنْ حَجَّةِ رَسُولِ پرتھی۔انہوں نے ہمیں نماز پڑھائی۔میں نے کہا مجھے الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ بَيَدِهِ فَعَقَدَ رسول اللہ اللہ کے حج کے بارہ میں بتائیں۔انہوں تِسْعًا فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے نو تک گنا پھر کہا وَسَلَّمَ مَكَثَ تِسْعَ سِنِينَ لَمْ يَحُجَّ ثُمَّ أَذَّنَ رسول الله علی نو سال رہے اور حج نہیں کیا۔پھر فِي النَّاسِ فِي الْعَاشِرَةِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى دسویں سال لوگوں میں اعلان کیا کہ رسول اللہ علی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجٌ فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ بَشَرٌ حج کرنے والے ہیں۔مدینہ میں بہت لوگ آئے۔كَثِيرٌ كُلُّهُمْ يَلْتَمِسُ أَنْ يَأْتَمَّ بِرَسُولِ اللَّهِ سب اس جستجو میں تھے کہ رسول اللہ ﷺ کی پیروی صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَعْمَلَ مِثْلَ عَمَلِهِ کریں اور آپ کے عمل کے مطابق عمل کریں۔ہم فَخَرَجْنَا مَعَهُ حَتَّى أَتَيْنَا ذَا الْحُلَيْفَةِ فَوَلَدَتْ آپ کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ ہم ذوالحلیفہ پہنچے تو أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ حضرت اسماء بنت عمیس نے محمد بن ابی بکر کو جنم دیا اور فَأَرْسَلَتْ إِلَى رَسُول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ انہوں نے رسول اللہ علی اللہ کو پیغام بھیجا کہ میں کیا وَسَلَّمَ كَيْفَ أَصْنَعُ قَالَ اغْتَسِلِي کروں؟ آپ نے فرمایا کہ غسل کرو اور کپڑا باندھ کر وَاسْتَغْفِرِي بِثَوْب وَأَحْرِمِي فَصَلَّى رَسُولُ احرام باندھ لو رسول اللہ ﷺ نے مسجد میں نماز الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ ثُمَّ پڑھائی پھر قصواء (اونٹنی ) پر سوار ہوئے یہانتک کہ رَكِبَ الْقَصْوَاءَ حَتَّى إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ نَاقَتُهُ آپ کی اونٹنی بیداء مقام پر کھڑی ہوئی تو میں نے عَلَى الْبَيْدَاءِ نَظَرْتُ إِلَى مَدْ بَصَرِي بَيْنَ اپنے سامنے تاحد نظر سوار اور پیدل چلنے والے دیکھے