صحیح مسلم (جلد پنجم) — Page 88
مسلم جلد پنجم 88 كتاب الصيام صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ عَاشُورَاءَ إِلَى وہ اپنا روزہ پورا کرے اور جس نے صبح کو کچھ کھا لیا تو وہ قُرَى الْأَنْصَارِ الَّتِي حَوْلَ الْمَدِينَةِ مَنْ كَانَ باقی دن اپنا روزہ مکمل کرے۔اس کے بعد ہم اس أَصْبَحَ صَائِمًا فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ وَمَنْ كَانَ (دن) روزہ رکھا کرتے تھے اور اگر اللہ چاہتا تو ہم أَصْبَحَ مُفْطِرًا فَلْيُتِمَّ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ فَكُنَّا بَعْدَ حسب توفیق اپنے چھوٹے بچوں میں سے (بھی) ذَلكَ تَصُومُهُ وَنُصَوِّمُ صِبْيَانَنَا الصَّغَارَ مِنْهُمْ بعض کو روزہ رکھواتے اور ہم مسجد جاتے اور ان بچوں إِنْ شَاءَ اللَّهُ وَتَذْهَبُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَتَجْعَلُ کے لئے پشم کا کھلونا بناتے۔جب ان میں سے کوئی لَهُمُ اللَّعْبَةَ مِنَ الْعِهْنِ فَإِذَا بَكَى أَحَدُهُمْ (بچہ) کھانے کے لئے روتا تھا تو ہم روزہ کھلنے تک عَلَى الطَّعَامِ أَعْطَيْنَاهَا إِيَّاهُ عِنْدَ الْإِفْطَارِ ان کو وہ (کھلونا ) دے دیا کرتے تھے۔(137) و حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا أَبُو ایک اور روایت میں ہے خالد بن ذکوان کہتے ہیں کہ مَعْشَرِ الْعَطَّارُ عَنْ خَالِدِ بْنِ ذَكْوَانَ قَالَ میں نے حضرت ربیع بنت معوذ سے عاشورہ سَأَلْتُ الرُّبيعَ بنتَ مُعَوِّدَ عَنْ صَوْم کے روزے کے بارہ میں پوچھا۔انہوں نے کہا عَاشُورَاءَ قَالَتْ بَعَثَ رَسُولُ الله صَلَّى الله رسول الله لو نے انصار کی بستیوں میں اپنے قاصد عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُسُلَهُ فِي قُرَى الْأَنْصَارِ فَذَكَرَ بھجوائے۔۔۔۔ہاں انہوں نے یہ کہا ہم ان کے لئے بِمِثْلِ حَدِيثِ بِشَرِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ وَتَصْنَعُ لَهُمُ پشم کا کھلونا بناتے اور ہم اسے(بچہ کو) اپنے ساتھ اللَّعْبَةَ مِنَ الْعِهْنِ فَتَذْهَبُ بِهِ مَعَنَا فَإِذَا لیجاتے۔پھر جب وہ ہم سے کھانا مانگتے تو ہم سَأَلُونَا الطَّعَامَ أَعْطَيْنَاهُمُ اللَّعْبَةَ تُلْهِيهِمْ انہیں بہلانے کے لئے وہی کھلونا دے دیتے یہاں حَتَّى يُتمُّوا صَوْمَهُمْ [2670,2669] تک کہ وہ اپنا روزہ پورا کرتے۔221221 : بَاب النَّهْيِ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الْفِطْرِ وَيَوْمِ الْأَضْحَى عید الفطر اور عید الاضحی کے دن روزے کی ممانعت کا بیان 1906(138) وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ 1906 : این از ہر کے آزاد کردہ غلام ابو عبید سے روایت قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب بچوں کو روزہ رکھوانے کے بارہ میں یہ طریق اسلام کی عام تعلیم نہیں ہے اور نہ ہی یہ روایت حدیث کا مقام رکھتی ہے۔1906 : تخریج بخارى كتاب فضل الصلاة في مسجد مكة ومدينة باب مسجد بيت المقدس 1197 كتاب الصوم باب صوم =