صحیح مسلم (جلد پنجم) — Page 20
مسلم جلد پنجم 20 20 كتاب الصيام الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ہوا جبکہ ہم ذات عرق میں تھے۔ہم نے ایک جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ آدمی کو حضرت ابن عباس کی طرف یہ پوچھنے کے سَمِعْتُ أَبَا الْبَحْتَرِيِّ قَالَ أَهْلَلْنَا رَمَضَانَ لئے بھیجا تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا وَنَحْنُ بِذَاتِ عِرْقٍ فَأَرْسَلْنَا رَجُلًا إِلَى ابْنِ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالی نے اسے (نئے اللَّهُ عَنْهُمَا يَسْأَلُهُ فَقَالَ ابْنُ چاند کو اس کے دیکھنے تک بڑھا دیا ہے۔پس اگر تم اللهُ عَنْهُمَا قَالَ رَسُولُ الله پر بادل چھا جائیں تو گنتی پوری کرو۔عَبَّاس رَضِيَ عَبَّاس رَضِيَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَمَدَّهُ لرؤيته فَإِنْ أُعْمِيَ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا العدةَ [2530] 7171 : باب: بیان مَعْنَى قَوْله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرَا عِيدَ لَا يَنْقُصَان باب: آپ معدے کے اس ارشاد کا معنی کہ عید کے دو مہینے ناقص نہیں ہوتے 1808{31} حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ 1808: حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنْ خَالِدٍ عَنْ عَبْدِ کہ نبی ﷺ نے فرمایا عید کے دو مہینے رمضان اور الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ ذوالحجہ ناقص نہیں ہوتے۔عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ شَهْرَا عِيدٍ لَا يَنْقُصَانِ رَمَضَانُ وَذُو الحجة [2531] 1808: اطراف مسلم کتاب الصیام باب بیان معنى قوله شهر اعيد لا ينقصان 1809 تخریج : بخاری کتاب الصوم باب شهر عيد لا ينقصان 1912 ترمذی کتاب الصوم باب ماجاء شهر اعيد لا ينقصان 692 ابوداود کتاب الصوم باب الشهر يكون تسعًا وعشرين 2323 ابن ماجه كتاب الصيام باب ماجاء في شهرى العيد 1659 حمد اس سے غالباً یہ مراد ہے کہ اپنی برکت اور فضیلت کے لحاظ سے یہ دونوں مہینے کم نہیں ہوتے خواہ تمہیں دن کے ہوں یا انتیس دن کے ، ورنہ عملاً تو یہ دونوں مہینے میں کے بھی ہو سکتے ہیں اور انتیس کے بھی ہو سکتے ہیں جیسا کہ احادیث میں بھی وضاحت موجود ہے۔