صحیح مسلم (جلد پنجم) — Page 18
مسلم جلد پنجم 18 كتاب الصيام يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا کہتے ہیں میں شام آیا اور ان کا کام مکمل کیا۔میں شام إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ عَنْ مُحَمَّدٍ وَهُوَ میں (ہی) تھا کہ رمضان کا چاند مجھ پر طلوع ہوا۔میں ابْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ عَنْ كُرَيْبِ أَنْ أُمَّ الْفَضْلِ نے نیا چاند جمعہ کی رات دیکھا۔پھر مہینہ کے آخر پر بِنْتَ الْحَارِثِ بَعَثَتْهُ إِلَى مُعَاوِيَةَ بِالشَّامِ قَالَ میں مدینہ آ گیا۔فَقَدمْتُ السَّامَ فَقَضَيْتُ حَاجَتَهَا وَاسْتَهِلْ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے عَلَيَّ رَمَضَانُ وَأَنَا بِالشَّامِ فَرَأَيْتُ الْهِلَالَ (حال احوال ) پوچھا پھر نئے چاند کا ذکر کیا اور کہا تم لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ ثُمَّ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فِي آخِرِ نے نیا چاند کب دیکھا؟ میں نے کہا ہم نے اسے جمعہ الشَّهْرِ فَسَأَلَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ کی رات دیکھا۔انہوں نے کہا تم نے خود اسے اللَّهُ عَنْهُمَا ثُمَّ ذَكَرَ الْهِلَالَ فَقَالَ مَتَى رَأَيْتُمُ دیکھا؟ میں نے کہا ہاں اور دوسرے لوگوں نے الْهِلَالَ فَقُلْتُ رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ (بھی) اسے دیکھا اور انہوں نے روزہ رکھا اور امیر أَنْتَ رَأَيْتَهُ فَقُلْتُ نَعَمْ وَرَآهُ النَّاسُ وَصَامُوا معاویہ نے بھی روزہ رکھا۔انہوں نے کہا لیکن ہم نے وَصَامَ مُعَاوِيَةُ فَقَالَ لَكِنَّا رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ اسے ہفتہ کی رات دیکھا ہم روزے رکھتے رہیں گے السَّبْتِ فَلَا تَزَالُ نَصُومُ حَتَّى تُكْمِلَ ثَلَاثِینَ یہاں تک کہ تمھیں پورے کر لیں یا ہم اسے ( چاند کو ) أَوْ نَرَاهُ فَقُلْتُ أَوَ لَا تَكْتَفِي بِرُوْيَةِ مُعَاوِيَةَ دیکھ لیں۔میں نے کہا کیا آپ کے لئے امیر معاویہؓ وَصِيَامِهِ فَقَالَ لَا هَكَذَا أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ کی رؤیت اور ان کا روزہ رکھنا کافی نہیں تو انہوں نے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشَكَ يَحْيَى بْنُ کہا نہیں، ہمیں رسول اللہ ﷺ نے ایسا ہی حکم يَحْيَى في تكتفي أَوْ تَكتفي [2528] دیا تھا۔راوی بھی بن سکی کو شک ہے کہ نکتفی کہا یا تكتفی کہا۔