صحیح مسلم (جلد پنجم) — Page 121
مسلم جلد پنجم 121 كتاب الصيام عَلَيْهِ وَسَلَّمَ {183) و حَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ مہمان کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیرے جسم کا بھی تجھ پر حَرْبِ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا حق ہے۔وہ کہتے ہیں میں نے تختی اختیار کی پس مجھے پر حُسَيْنُ الْمُعَلِّمُ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ سختی کی گئی۔وہ کہتے ہیں مجھے نبی ﷺ نے (یہ بھی) بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ فِيهِ بَعْدَ قَوْلِهِ مِنْ كُلِّ فرمایا تمہیں معلوم نہیں شاید تیری عمر لمبی ہو۔وہ کہتے شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَإِنْ لَكَ بِكُلِّ حَسَنَةٍ عَشرَ ہیں میں وہاں پہنچ گیا ہوں جہاں نبی ﷺ نے فرمایا أَمْثَالِهَا فَذَلِكَ الدَّهْرُ كُلَّهُ وَقَالَ فِي تھا۔اب جبکہ میں بوڑھا ہو گیا ہوں میں نے خواہش الْحَدِيثِ قُلْتُ وَمَا صَوْمُ نَبِيِّ اللَّهِ دَاوُدَ کی اے کاش میں نے نبی کریم ﷺ کی طرف سے عَلَيْكَ حَقًّا [2731,2730] قَالَ نِصْفُ الدَّهْرِ وَلَمْ يَذْكُرْ فِي الْحَديث ملنے والی ) رخصت قبول کر لی ہوتی۔مِنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ شَيْئًا وَلَمْ يَقُلْ وَإِنَّ ایک اور روایت میں ہر ماہ تین دن کے روزوں) لِزَوْرِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلَكِنْ قَالَ وَإِنَّ لِوَلَدِكَ کے ذکر کے بعد یہ اضافہ ہے یقینا تیرے لئے ہر نیکی کا دس گنا بدلہ ہے اور یہ عمر بھر کے ( روزے ہو جاتے ) ہیں۔اسی روایت میں ہے میں نے عرض کیا کہ اللہ کے نبی ! داؤد کے روزے کیا تھے؟ آپ (ﷺ) نے فرمایا آدھی عمر کے۔اور اس روایت میں قرآن پڑھنے کا ذکر نہیں ہے اور یہ بھی ذکر نہیں کہ تیرے مہمان کا بھی تجھ پر حق ہے۔بلکہ یہ ذکر ہے کہ تیرے بچوں کا بھی تجھ رحق ہے۔صلى الله نے 1950(184) حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ :1950 حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ شَيْبَانَ عَنْ روایت ہے وہ کہتے ہیں مجھے رسول اللہ يَحْيَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى فرمایا ہر مہینہ میں (پورا) قرآن پڑھ لیا کرو۔وہ کہتے بَنِي زُهْرَةَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ وَأَحْسَبُني قَدْ ہیں میں نے کہا مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے۔1950: اطراف : مسلم كتاب الصيام باب عن النهي عن صوم الدهر لمن تضرر او فوت به حقاً۔۔۔1948 ، 1949، 1951 1952 ، 1953 ، 1954 ، 1955 ، 1956 ، 1957 ، 1958 ، 1959 باب استحباب صيام ثلاثة ايام۔۔۔1960 =