صحیح مسلم (جلد چہارم) — Page 42
صحیح مسلم جلد چهارم 42 کتاب صلاة العيدين أَبُو [1] 185 : بَاب ذِكْرِ إِبَاحَةِ خُرُوجِ النِّسَاءِ فِي الْعِيدَيْنِ إِلَى الْمُصَلَّى وَشُهُودِ الْخُطْبَةِ مُفَارِقَاتٍ لِلرِّجَالِ باب : خواتین کے عیدین کے لئے عید گاہ جانے اور مردوں سے الگ ( بیٹھ کر ) خطبہ میں حاضر ہونے کے جواز کا ذکر رہیں۔1464{10} حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ :1464 : حضرت ام عطیہ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ ہمیں آپ نے حکم دیا ان کی مراد نبی ﷺ سے تھی کہ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ أَمَرَنَا تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى الله ہم عیدین میں کنواری لڑکیوں اور پردے کرنے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُخْرِجَ فِي الْعِيدَيْنِ الْعَوَاتِقَ والیوں کو بھی لایا کریں اور آپ نے ارشاد فرمایا کہ وَذَوَاتِ الْخُدُورِ وَأَمَرَ الْحُيَّضَ أَنْ يَعْتَزِلْنَ حیض والی عورتیں مسلمانوں کی جائے نماز سے الگ مُصَلَّى الْمُسْلِمِينَ [12054 1465{11} حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا 1465: حضرت ام عطیہ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں يْثَمَةَ عَنْ عَاصِمِ الْأَحْوَلِ عَنْ حَفْصَةَ ہمیں عیدین کے لئے نکلنے کا حکم دیا جاتا تھا اور پردہ بِنْتِ سِيرِينَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ كُنَّا نُؤْمَرُ نشین اور کنواری عورتوں کو ( بھی )۔وہ کہتی تھیں حیض بالْخُرُوجِ فِي الْعِيدَيْنِ وَالْمُحَبَّأَةُ وَالْبِكْرُ والی عورتیں ( بھی ) نکلیں گی اور وہ لوگوں سے پیچھے قَالَتِ الْحُيَّضُ يَخْرُجْنَ فَيَكُنَّ خَلْفَ النَّاسِ رہیں گی اور لوگوں کے ساتھ تکبیرات کہیں گی۔يُكَبِّرْنَ مَعَ النَّاسِ [2055] 1466{12} وحَدَّثَنَا عَمْرُو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا 1466: حضرت ام عطیہ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں : عِيسَى بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ حَفْصَةَ که رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ارشاد فرمایا کہ ہم عید بنت سِيرِينَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ أَمَرَنَا الفطر اور عید الاضحیٰ میں کنواریوں ، حیض والی اور پردہ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نشین عورتوں کو لایا کریں۔حیض والی عورتیں نماز سے نُخْرِجَهُنَّ فِي الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى الْعَوَالِقَ الگ رہیں۔اور بھلائی اور مسلمانوں کی دعا میں حاضر وَالْحَيَّضَ وَذَوَاتِ الْخُدُورِ فَأَمَّا الْحُيَّضَ ہوں۔میں نے کہا یا رسول اللہ ! ہم میں سے کسی کے